عقیل رحمانی ۔۔۔۔ گر ہے ہمت ظلم کے بازار پر اُنگلی اُٹھا

گر ہے ہمت ظلم کے بازار پر اُنگلی اُٹھا
جو ڈبوئے خوں میں اُس دَستار پر اُنگلی اُٹھا

شب کے رُخ پر روشنی کے ہاتھ سے تحریر لکھ
حوصلہ کرکے ذرا دو چار پر اُنگلی اُٹھا

پہلے اپنی گفتگو سے لفظ پتھریلے نکال
پھر کسی کے لہجہ و گفتار پر اُنگلی اُٹھا

راکھ کر دیتی ہیں یہ بارود کی بیساکھیاں
اِن کے شعلوں میں چُھپے اَسرار پر اُنگلی اُٹھا

ذہن میں رکھ لے یزیدِ ظُلم کے انجام کو
پھر غلامِ حیدرِؓ کرار پر اُنگلی اُٹھا

کیوں جلانا چاہتا ہے جسم و جاں کو تو عقیل
سوچ کر ہی پھول سے رُخسار پر اُنگلی اُٹھا

Related posts

Leave a Comment