یوں بہاروں کو سزا دیتے ہیں لوگ
سبز شاخوں کو جلا دیتے ہیں لوگ
تاکہ اک طوفاں اُٹھایا جا سکے
بات کو کتنی ہوا دیتے ہیں لوگ
اک اچھوتا وار کرنے کے لیے
ہاتھ سے خنجر گرا دیتے ہیں لوگ
مدعی کا خوں بھی لے لیتے ہیں سر
کب کسی کو خوں بہا دیتے ہیں لوگ
دیدنی ہے مصلحت کی انتہا
مسئلے زندہ دبا دیتے ہیں لوگ
پھاند کر پرواز سناٹے کی حد
گاہے گاہے سر کٹا دیتے ہیں لوگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہنستے ہیں لوگ ہم سے ہی کیسا مذاق ہے
بس اور کچھ نہیں تری دنیا مذاق ہے
ریگِ رواں سے اب اسے موسوم کیجیے
اک عمر سے جو خشک ہے دریا ، مذاق ہے
انسان ہوں اگر تو فرشتہ نہ کہہ مجھے
انسانیت کے ساتھ یہ بھونڈا مذاق ہے
اُس سے اُسی کو مانگنا مہنگا پڑا مجھے
جس نے کہا کہ میری تمنا مذاق ہے
عمرِ عزیز کٹ گئی اُس کے فراق میں
جس کی نظر میں وصل کا لمحہ مذاق ہے
جس پر نگاہِ خاص رہی ہے تمام عمر
وہ بھی مرے خلوص کو سمجھا مذاق ہے
جس کی گھنیری چھائوں میں جلنے لگے بدن
پرواز ایسے پیڑ کا سایا مذاق ہے
