رنگِ مزاجِ یار سے جو متصف نہ ہو
محبوب کیا جہان سے جو مختلف نہ ہو
اوڑھی نہ ہو جو صبر و رضا کی بدن پہ شال
بے شک محبتوں کا کبھی معترف نہ ہو
یہ ذہن و دل کے سلسلے ملتے نہ ہوں جہاں
ایسی گلی میں جا کے کبھی معتکف نہ ہو
حاصل رسائی منزلِ دل تک نہ کر سکے
دنیا کے قاعدوں سے اگر منحرف نہ ہو
سمجھے گا یار خاک تقاضے وفائوں کے
جس پر رضائے دل ہی جیا منکشف نہ ہو
