رنگِ مزاجِ یار سے جو متصف نہ ہو محبوب کیا جہان سے جو مختلف نہ ہو اوڑھی نہ ہو جو صبر و رضا کی بدن پہ شال بے شک محبتوں کا کبھی معترف نہ ہو یہ ذہن و دل کے سلسلے ملتے نہ ہوں جہاں ایسی گلی میں جا کے کبھی معتکف نہ ہو حاصل رسائی منزلِ دل تک نہ کر سکے دنیا کے قاعدوں سے اگر منحرف نہ ہو سمجھے گا یار خاک تقاضے وفائوں کے جس پر رضائے دل ہی جیا منکشف نہ ہو
Read MoreTag: Jia Qureshi
جیا قریشی ۔۔۔ اپنی زلفوں کو پریشان بھی کرسکتی ہوں
اپنی زلفوں کو پریشان بھی کرسکتی ہوں آپ سے پیار کا پیمان بھی کرسکتی ہوں آپ کے نام پہ قربان بھی ہوسکتی ہوں دفعتاََ آپ کو حیران بھی کرسکتی ہوں اِس محبت کے لئے جان بھی دے سکتی ہوں اور فدا حسرت و ارمان بھی کرسکتی ہوں آپ کی یاد کی قندیل جلاسکتی ہوں دل کا آباد یہ زِندان بھی کرسکتی ہوں میں تو اے شخص! ترا ساتھ نبھانے کے لئے وقف یہ جان بھی اور آن بھی کرسکتی ہوں اے زمانے!ترے آلام اٹھانے کے لئے خود کو آرام سے…
Read Moreجیا قریشی ۔۔۔ دردِ دل ہم کو ستاتا ہے بہت راتوں میں
دردِ دل ہم کو ستاتا ہے بہت راتوں میں چین پڑتا ہے کہاں پیار کی برساتوں میں ہم بھلا تیرے خدو خال کہاں دیکھتے ہیں ہم تو کھو جاتے ہیں اے شخص! تری باتوں میں سانحہ کوئی ہمیں تاک نہیں سکتا ہے ہم ہیں محفوظ محبت کے حسیں ہاتھوں میں اور تو کچھ نہیں درکار ہمیں ،کچھ بھی نہیں بے وفا! ہم کو وفا چاہیے سوغاتوں میں جانے کیا دل میں سمایا تھا کہ خالص سونا کھوجتے رہتے ہیں ہم خام سی کچھ دھاتوں میں تِیر غیروں کے بھلا مجھ…
Read More