علی حسین عابدی ۔۔۔ جو ایک بار بھی مجھ سے کبھی ملا نہیں تھا

جو ایک بار بھی مجھ سے کبھی ملا نہیں تھا
سوائے اس کے مرا کوئی آشنا نہیں تھا

میں جی رہا تھا حیات و ممات کے مابین
فریبِ خواہشِ دنیا میں مبتلا نہیں تھا

میں جانتا ہوں پرستش نہیں ہوئی اس کی
اگرچہ عشق تھا لیکن مرا خدا نہیں تھا

سکوت توڑ کے رختِ سفر اُٹھا کے چلا
بیانِ مرگ مطالب سے ماورا نہیں تھا

ستم شعار نے دامن بھی تار تار کیا
ابھی تو چاک گریبان کا سلا نہیں تھا

بس ایک در پہ گزاری گئی حیات کہ اب
اک اور بار بچھڑنے کا حوصلہ نہیں تھا

یہ کیا ہوا ہے تجھے عابدی بتا تو سہی
تو اس قدر تو کبھی مشتعل رہا نہیں تھا

Related posts

Leave a Comment