صحرا بھی کیا کمال دکھاتا ہے دُ ھوپ میں
ذرّہ تک آئنہ نظر آتاہے دُھوپ میں
شب بھر میں آسمان کی صُورت بدل گئی
تب کیا تھا اور کیا نظر آتا ہے دُھوپ میں
آنکھوں کی پُتلیاں جو سمٹتی ہیں دم بدم
صحرا کُچھ اور پھیلتا جاتا ہے دُھوپ میں
اندر کی آنکھ سے نظر آتا ہے صاف صاف
چھپ کے جو عکس رینگتا جاتا ہے دُھوپ میں
مجھ میں مِرے سوا بھی کسی کا پڑاؤ ہے
یہ جو کبھی جدا نظر آتا ہے دھوپ میں
اے دوست ! اس کے بعد گھنی چھاؤں آئے گی
ہر عہد زندگی کو بلاتا ہے دُھوپ میں
وحشت معاوضے کی تمنائی ہی نہیں
مجنوں بس ایک نام کماتاہے دھوپ میں
قائم تضاد ہی سے نظامِ حیات ہے
سائے کا اعتبار بھی آتا ہے دُھوپ میں
