صحرا بھی کیا کمال دکھاتا ہے دُ ھوپ میں ذرّہ تک آئنہ نظر آتاہے دُھوپ میں شب بھر میں آسمان کی صُورت بدل گئی تب کیا تھا اور کیا نظر آتا ہے دُھوپ میں آنکھوں کی پُتلیاں جو سمٹتی ہیں دم بدم صحرا کُچھ اور پھیلتا جاتا ہے دُھوپ میں اندر کی آنکھ سے نظر آتا ہے صاف صاف چھپ کے جو عکس رینگتا جاتا ہے دُھوپ میں مجھ میں مِرے سوا بھی کسی کا پڑاؤ ہے یہ جو کبھی جدا نظر آتا ہے دھوپ میں اے دوست ! اس…
Read MoreTag: رحمان حفیظ کی غزل
رحمان حفیظ ۔۔۔ متن و سنَد سے اور نہ تسطیر سے اْٹھے
متن و سنَد سے اور نہ تسطیر سے اُٹھے جھگڑے تمام حلقۂ تعبیر سےاُٹھے اِک جبر کا فریم چڑاتا ہے میرا مُونہہ پردہ جب اختیار کی تصویر سے سےاُٹھے فکر ِسخن میں یوں بھی ہوا ہے کبھی کہ ہم بیٹھے بٹھائے بارگہِ میر سے سےاُٹھے اس دل میں اک چراغ تھا سو وہ بھی گُل ہوا ممکن ہے اب دھواں مری تحریر سےاُٹھے پلکوں پہ یہ ڈھلکتے ہوئے اشک مت بنا ممکن ہے اتنا بار نہ تصویر سے سےاُٹھے
Read More