غزل (خالد احمد کی نذر)
۔۔۔۔۔۔
رات آئی ہے ، سحر کی سوچیں
ہم اُجالے کے سفر کی سوچیں
عزم ہی خوف و خطر سے گزرے
وسعتِ حدِّ نظر کی سوچیں
روشنی دل میں اُترتی جائے
رَوِشِ شمس و قمر کی سوچیں
جس میں حد ہے ، نہ قرینہ، نہ لحاظ
نارسائی سے حَذَر کی سوچیں
مستقل بادیہ پیمائی کیا
کبھی یکسوئی سے گھر کی سوچیں
بے ثمر پیڑ ہوا ہے کیوں کر!
کسی شاداب ہُنَر کی سوچیں
منہدم ہو گی عمارت ساری
پختہ دیوار کی ، در کی سوچیں
حُسنِ انساں ہی کو لے ڈوبی ہیں
زہر ہیں تیغ و تبر کی سوچیں
زہر آلود ہوا ہے اُسلُوب
ننگ ہیں برق و شرر کی سوچیں
لُٹ گیا تاج تو نوحہ کیسا
خم نہ کھاتے ہوئے سر کی سوچیں
چھوڑ دیں قصّۂ پارینہ کو
آج کی تازہ خبر کی سوچیں
رنگ شعروں کا نِکھر جائے ریاض
ہم اگر خونِ جگر کی سوچیں
