پرائے دکھ بھی اپنے ہو گئے ہیں
سبھی رنگ ایک جیسے ہو گئے ہیں
گزرتے ہی نہیں لمحوں کی صورت
نہ جانے کیسے لمحے ہو گئے ہیں
لکھی ابلیس نے جھوٹی کہانی
مگر کردار سچے ہو گئے ہیں
بہت احسن طریقے سے بنے تھے
مگر ہم لوگ کیسے ہو گئے ہیں
عجب دیوار ہے ہستی ہماری
دریچے ہی دریچے ہو گئے ہیں
مگر اب تو ہمارے روز و شب بھی
عدالت کے کٹہرے ہو گئے ہیں
پیامی کو قضا نے آ لیا ہے !
کبوتر ، باز جیسے ہو گئے ہیں
بڑے خوش بخت ہوتے ہیں گداگر
بہت سے کھاتے پیتے ہو گئے ہیں
برے دن ہیں مگر کچھ ان دنوں بھی
بہت سے کام اچھے ہو گئے ہیں
سمجھتی ہے وہ خود کو شاہزادی
تو کیا ہم شاہزادے ہو گئے ہیں
