جو ایک بار بھی مجھ سے کبھی ملا نہیں تھا سوائے اس کے مرا کوئی آشنا نہیں تھا میں جی رہا تھا حیات و ممات کے مابین فریبِ خواہشِ دنیا میں مبتلا نہیں تھا میں جانتا ہوں پرستش نہیں ہوئی اس کی اگرچہ عشق تھا لیکن مرا خدا نہیں تھا سکوت توڑ کے رختِ سفر اُٹھا کے چلا بیانِ مرگ مطالب سے ماورا نہیں تھا ستم شعار نے دامن بھی تار تار کیا ابھی تو چاک گریبان کا سلا نہیں تھا بس ایک در پہ گزاری گئی حیات کہ اب…
Read MoreTag: Ali Hussain Abdi
علی حسین عابدی ۔۔۔ تالاب مری اشک فشانی سے بھرے ہیں
تالاب مری اشک فشانی سے بھرے ہیں اوراق زندگی کی کہانی سے بھرے ہیں افسانوں میں اک طور بڑھاپے کی جھلک ہے اشعار مگر شوخ جوانی سے بھرے ہیں تعبیر کی گتھی کہ سلجھتی ہی نہیں ہے سب خواب ہی تشکیکِ معانی سے بھرے ہیں معدوم ہے تہذیب و تمدن کی روایت یہ شہر فقط نقل مکانی سے بھرے ہیں میں خشک خیالوں کا امیں ایک جزیرہ اطراف مرے کھار کے پانی سے بھرے ہیں خاکسترِ خاموش ہوا بیٹھا ہوں لیکن افکار مرے شعلہ فشانی سے بھرے ہیں
Read Moreعلی حسین عابدی ۔۔۔ جب نظر اُس کے رُخ پہ ڈالتا ہوں
جب نظر اُس کے رُخ پہ ڈالتا ہوں زخم ہر روز ایک پالتا ہوں پھر نیا روپ لے کے آتی ہیں دل سے یادوں کو جب نکالتا ہوں وار جس وقت بھی ہوا مجھ پر اُس کا الزام خود پہ ڈالتا ہوں پاؤں اُٹھتے ہیں اس گلی کی طرف کس مشقت سے خود کو ٹالتا ہوں عابدی مجھ سے شاعری ہے بعید میں فقط لفظ کو اجالتا ہوں
Read Moreعلی حسین عابدی ۔۔۔ درد جاگے تو خواب سوتے رہے
درد جاگے تو خواب سوتے رہے ہم بھی ایسے میں خوب روتے رہے زندگی بوجھ بن گئی تھی مگر ہم اُسے خوش دلی سے ڈھوتے رہے ہم بدلتے رہے لباسِ سخن یوں خوشی کو غموں میں جوتے رہے یک بہ یک اشکِ نارسا کل شب روح کا پیرہن بھگوتے رہے ہم بھی سب کی خوشی میں خوش ہو کر عمر بھر اپنا غم بلوتے رہے عابدی جو بکھر گئے تھے کبھی وہ تعلق سبھی پروتے رہے
Read Moreعلی حسین عابدی ۔۔۔ درد جاگے تو خواب سوتے رہے
درد جاگے تو خواب سوتے رہے ہم بھی ایسے میں خوب روتے رہے زندگی بوجھ بن گئی تھی مگر ہم اُسے خوش دلی سے ڈھوتے رہے ہم بدلتے رہے لباسِ سخن یوں خوشی کو غموں میں جوتے رہے یک بہ یک اشکِ نارسا کل شب روح کا پیرہن بھگوتے رہے ہم بھی سب کی خوشی میں خوش ہو کر عمر بھر اپنا غم بلوتے رہے عابدی جو بکھر گئے تھے کبھی وہ تعلق سبھی پروتے رہے
Read Moreعلی حسین عابدی ۔۔۔ خدا کو مان غضب سے نہ یوں پکار مجھے
خدا کو مان غضب سے نہ یوں پکار مجھے کرے گا سیلِ رواں پھر سے اشک بار مجھے میں اپنی آنکھ سے اوجھل رہا ہوں دیر تلک غموں کی دھول نے ایسا کیا غبار مجھے میں خود شناس جو ہوتا اگر خدا کی قسم مرا خلوص رُلاتا نہ بار بار مجھے رہا ہوں ذات کے بحرِ عمیق میں کل تک کیا ہے تیری محبت نے آشکار مجھے فراق دل میں محبت جلائے رکھتا ہے اب ایک پل بھی میسر نہیں قرار مجھے مرا غنیم مجھے بے ثبات کر نہ سکا…
Read Moreعلی حسین عابدی ۔۔۔ جب ہم بنے تھے یار دو
جب ہم بنے تھے یار دو کیسا تھا دو ہزار دو ہوں میں شکستہ پا بہت بگڑی ہوئی سنوار دو مجھ پر نہ کرو حکمرانی خود پہ بھی اختیار دو قسمت پہ دسترس ہے کب جیسی بھی ہے گزار دو لہجے کے اعتماد سے لفظوں کو اعتبار دو نقشِ کہن بنوں گا میں صدیوں کا انتظار دو فرصت ملے تو آ ملو بیٹھیں گے خاکسار دو آنکھیں ہیں اُس کی یا کوئی خنجر ہیں آب دار دو اِک پل ذرا سکوں نہیں آؤ مجھے قرار دو ہاتھوں میں ہاتھ تھام…
Read Moreعلی حسین عابدی ۔۔۔ اہلِ دل، دل لگی سے ڈرتے ہیں
اہلِ دل، دل لگی سے ڈرتے ہیں ایک ہم ہیں خوشی سے ڈرتے ہیں اُن کو جینے کی آرزو ہے بہت اور ہم زندگی سے ڈرتے ہیں ٹوٹ جاتا ہے وہ جو پل بھر میں دِل کی اُس نازکی سے ڈرتے ہیں یاد شدت سے آ رہے ہیں وہ ہم تواس بے کلی سے ڈرتے ہیں اتنا آگے وفا میں نکلے ہیں اب تو بس بے خودی سے ڈرتے ہیں جب خیال آتا ہے بچھڑنے کا ہم تری بے رخی سے ڈرتے ہیں چوٹ وہ کھائی ہے محبت میں ہم…
Read Moreعلی حسین عابدی ۔۔۔ شمار کرتے نہیں مجھ کو خاندان میں تم
شمار کرتے نہیں مجھ کو خاندان میں تم مجھے یہ ڈال رہے ہو کس امتحان میں تم یہ لگ رہا ہے نہیں مطمئن نشانے سے رکھو گے تیر بھلا کب تلک کمان میں تم یہ مانا حُسن میں رکھتے نہیں تم اپنا جواب کہ کامیاب نہیں عشق کی اُڑان میں تم تمہاری بندگی کرتا ہوں دیکھنا کیسے! حروف اپنے نہ ڈالو مری زبان میں تم محبتوں کے خزانے بکھیرتے ہی رہیں زمیں کی گود میں ہم اور آسمان میں تم ہوا میں اُڑتے پرندوں کو دیکھتے کیوں ہو اکیلے ہی…
Read Moreعلی حسین عابدی ۔۔۔ فلسطین جل رہا ہے
ہم اکیلے ہیں ساری دُنیا میں قدر کیا ہے ہماری دُنیا میں ہے جو دُشمن ہمارا اسرائیل اِس کو امریکہ دے رہا ہے ڈھیل یہ جو بچوں پہ بم برستے ہیں پانی کی بوند کو ترستے ہیں کر دیئے ہیں ہمارے گھر برباد اب بھلا ہم کہاں کریں فریاد بچے معصوم ہو گئے ہیں شہید کیا ہمارے لیے خوشی کی نوید عورتوں کو نہیں ہے بخشا گیا اِس قدر کاری اُن پہ وار کیا ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں مکان اب ہیں آباد صرف قبرستان شِیر خواروں کو موت…
Read More