یعقوب پرواز ۔۔۔ دو غزلیں

یوں بہاروں کو سزا دیتے ہیں لوگ سبز شاخوں کو جلا دیتے ہیں لوگ تاکہ اک طوفاں اُٹھایا جا سکے بات کو کتنی ہوا دیتے ہیں لوگ اک اچھوتا وار کرنے کے لیے ہاتھ سے خنجر گرا دیتے ہیں لوگ مدعی کا خوں بھی لے لیتے ہیں سر کب کسی کو خوں بہا دیتے ہیں لوگ دیدنی ہے مصلحت کی انتہا مسئلے زندہ دبا دیتے ہیں لوگ پھاند کر پرواز سناٹے کی حد گاہے گاہے سر کٹا دیتے ہیں لوگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہنستے ہیں لوگ ہم سے ہی کیسا مذاق ہے…

Read More

یعقوب پرواز ۔۔۔ دو غزلیں (ماہنامہ بیاض لاہور مارچ 2022 )

نور کا پیغام بر ٹوٹا نہیں آج تک نجمِ سحر ٹوٹا نہیں اس میں کچھ دانائیوں کا ہاتھ تھا میری نادانی سے گھر ٹوٹا نہیں پوچھ کر وجدان سے مجھ کو بتا چاند کیوں بارِ دگر ٹوٹا نہیں عمر بھر اونچی اڑانوں میں رہے خاک سے رشتہ مگر ٹوٹا نہیں شور ہے جتنا بپا چاروں طرف قہر ہم پر اس قدر ٹوٹا نہیں کوئی تو مجھ میں ہے اعجازِ ہنر مجھ سے میرا ہم سفر ٹوٹا نہیں میرے اندر بھی کئی بھونچال تھے میں ترے زیرِ اثر ٹوٹا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔…

Read More

یعقوب پرواز ۔۔۔ خود سوچ لو کہ مسئلہ کیسا ہے سامنے

خود سوچ لو کہ مسئلہ کیسا ہے سامنے پیچھے عدو کی فوج ہے ، دریا ہے سامنے آنکھیں بضد کہ بھیڑ میں کھویا ہوا ہے وہ دل کہہ رہا ہے دیکھ وہ تنہا ہے سامنے کب تک رہو گے ہوش میں اے دل گرفتگاں اک حشر خیز قامتِ زیبا ہے سامنے کیوں چھیڑیئے قیامتِ رفتہ کا تذکرہ مت بھولیے کہ محشرِ فردا ہے سامنے آخر کوئی تو ہے مری تشویش کا سبب آدھا سفر تو کٹ گیا ، آدھا ہے سامنے سیدھے سبھائو بات بھی کرتا نہیں ہے وہ پرواز…

Read More

یعقوب پرواز ۔۔۔ بیاد اسلم کولسری

بیاد اسلم کولسری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اُٹھے گا کس طرح بارِ الم تیری جدائی کاکہ ہو سکتا نہیں صدمہ رقم تیری جدائی کا رہیں گی عمر بھر یادیں تری میری معیت میںکہ تنہا اٹھ نہیں سکتا علَم تیری جدائی کا ترے اشعار میں اب ڈھونڈتا ہوں تیری صورت کوکسی صورت تو رہ جائے بھرم تیری جدائی کا کہاں اب زندگی کی تلخیوں سے جان چھوٹے گیکہ اب تو عمر بھر پینا ہے سم تیری جدائی کا مجال اپنی کہاں پرواز کہ اس سے کروں شکوہکہ جس نے مجھ پہ توڑا ہے ستم تیری جدائی…

Read More

یعقوب پرواز ۔۔۔ مسافت پانیوں کی بے گہر ہے اور میں ہوں

مسافت پانیوں کی بے گہر ہے اور میں ہوں مسلسل رائگانی کا سفر ہے اور میں ہوں میں آدم زاد ہوں میری فضیلت دیدنی ہے ورائے آسماں میری نظر ہے اور میں ہوں مرا احوال دے گا میرے اندر کی گواہی حدیثِ شوق اپنی معتبر ہے اور میں ہوں بہر سو عام ہیں قصے مری دیوانگی کے مری روداد کتنی مختصر ہے اور میں ہوں درونِ غار مجھ پر ہو گئی ہے نیند طاری یہ ویرانہ نہیں ہے میرا گھر ہے اور میں ہوں مدینے سے نکل کر جا بسا…

Read More

نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ سلم ۔۔۔ یعقوب پرواز

محبت ہو شہِ کونین کی اور انتہائی ہو یہی ہو زندگی اپنی، یہی اپنی کمائی ہو ودیعت ہو مجھے بھی حضرتِ حسانؓ کا جذبہ کچھ اس انداز سے سرکار کی مدحت سرائی ہو ولائے سیدِ عالم کی یوں تجسیم ہو جائے ادھر فرمانِ آقا ہو ادھر گردن جھکائی ہو تصور کاش لے جائے مجھے عہدِ رسالت میں مدینے کے در و دیوار سے یوں آشنائی ہو نبی کے اسوۂ کامل سے بہرہ یاب ہو جاؤں تو پھر یہ عین ممکن ہے مصائب سے رہائی ہو اگر ہم چل پڑیں سرکار…

Read More