شاہد ماکلی ۔۔۔ ہمیشگی سے تعارف کرایا جا چکا ہے

ہمیشگی سے تعارف کرایا جا چکا ہے
ہَوا پہ نقش بنا کر دکھایا جا چکا ہے

بَھرا نہ تھا ابھی پہلے قدم کا خمیازہ
کہ اس سے اگلا قدم بھی اٹھایا جا چکا ہے

درخت اوّلیں انساں کی راہ دیکھتے ہیں
زمیں کو رہنے کے قابل بنایا جا چکا ہے

نتیجہ سامنے آ جائے گا کوئی دن میں
نئی کہانی کا خاکہ بنایا جا چکا ہے

نشستیں خالی کریں ناظرینِ نَو کے لیے
کہ آپ کو تو تماشا دکھایا جا چکا ہے

سمجھ میں آئیں گی تحقیق سے کئی باتیں
دماغ تجربہ گاہوں میں لایا جا چکا ہے

بالآ خر آ گیا اس کی لپیٹ میں سب کچھ
فنا کا دائرہ اتنا بڑھایا جا چکا ہے

ہمارے دن بھی ہمارے نہیں ہیں، راتیں بھی
ہمارے وقت پہ بھی غلبہ پایا جا چکا ہے

اندھیرے نے ہے دَھما چَوکڑی مچائی ہوئی
کرن کو لوریاں دے کر سلایا جا چکا ہے

کہیں سے اور مری واپسی نہیں ہونی
جہاں سے لَوٹ کے آنا تھا ، آیا جا چکا ہے

میں اور غالب اکٹھے بسر کریں جس کو
بلندیوں پہ وہ منظر بنایا جا چکا ہے

بغیر خاک بھی ممکن ہے اب نمو شاہد
کہ پہلا پُھول خلا میں اُگایا جا چکا ہے

Related posts

Leave a Comment