شاہد ماکلی ۔۔۔ ہمیشگی سے تعارف کرایا جا چکا ہے

ہمیشگی سے تعارف کرایا جا چکا ہے ہَوا پہ نقش بنا کر دکھایا جا چکا ہے بَھرا نہ تھا ابھی پہلے قدم کا خمیازہ کہ اس سے اگلا قدم بھی اٹھایا جا چکا ہے درخت اوّلیں انساں کی راہ دیکھتے ہیں زمیں کو رہنے کے قابل بنایا جا چکا ہے نتیجہ سامنے آ جائے گا کوئی دن میں نئی کہانی کا خاکہ بنایا جا چکا ہے نشستیں خالی کریں ناظرینِ نَو کے لیے کہ آپ کو تو تماشا دکھایا جا چکا ہے سمجھ میں آئیں گی تحقیق سے کئی باتیں…

Read More

شاہد ماکلی ۔۔۔ دو غزلہ ۔۔۔ سَو راستے ہیں پیشِ نظر کائنات میں

سَو راستے ہیں پیشِ نظر کائنات میں جائے تو کوئی جائے کدھر کائنات میں یہ شش جہات میں مِری پہلی اڑان ہے کھولے ہیں پہلی مرتبہ پر کائنات میں ہے کائناتی گرد اڑائی ہوئی مری اتنا رہا ہوں گرمِ سفر کائنات میں تیری نگہ سے ہوتی ہوئی دل میں آئی تھی دل سے نکل کے پھیلی خبر کائنات میں سیّارگی ستارگی سے فیض یاب ہے روشن ہے تجھ سے میری سحر کائنات میں جس کی جڑیں زمین میں، شاخیں فلک میں ہیں غم ہے وہ ارتقائی شجر کائنات میں بے…

Read More

شاہد ماکلی… مسلسل ایک نئے امتحاں میں رہنے لگا

مسلسل ایک نئے امتحاں میں رہنے لگا جو خود میں رہ نہیں پایا ، زیاں میں رہنے لگا ازل اُلانگ گیا میں ، ابد پھلانگ گیا حدوں کو پھاند گیا ، لا زماں میں رہنے لگا اک انہدام نے دُنیا مری بدل ڈالی مکاں گرا تو میں کون و مکاں میں رہنے لگا دریچہ بند تھا مجھ پر مری حقیقت کا کہانی کھل گئی ، میں داستاں میں رہنے لگا بشر سماجی ذرائع سے کیا جُڑا شؔاہد کہ سب سے کٹ کے مجازی جہاں میں رہنے لگا

Read More