خورشید رضوی ۔۔۔ اپنے باطن کے چمن زار کو رجعت کر جا

غزل اپنے باطن کے چمن زار کو رجعت کر جا دیکھ اب بھی روشِ دہر سے وحشت کر جا اپنا چلتا ہوا بت چھوڑ زمانے کے لیے اور خود عرصۂ ایام سے ہجرت کر جا مانتا جس کو نہ ہو دل وہ عمل خود پہ گزار جو فسانہ ہو اسے چھو کے حقیقت کر جا سر کٹایا نہیں جاتا ہے تو کٹ جاتا ہے بات اتنی ہے کہ اس کام میں سبقت کر جا جاں سے آگے بھی بہت روشنیاں ہیں خورشید اک ذرا جاں سے گزر جانے کی ہمت…

Read More

خورشید رضوی

نہ تھی پہاڑ سے کچھ کم مگر مصیبتِ عمر ترے خیال میں گزری تو مختصر گزری

Read More

خورشید رضوی ۔۔۔ سات سمندر پار وطن کی یاد​

سات سمندر پار وطن کی یاد​ ……………………………………………………………………………….. اے میرے وطن اے پیارے وطن جب اسکولوں کے گیٹ کھلیں جب بچوں‌کا ریلا آئے پتھر کی سڑک پر پھول کِھلیں خوشبوؤں کا دریا آئے جب ایک سی وردی پہنے ہوئے بچوں کو گھر والے بھولیں جب سائیکلوں اور تانگوں پر بستے لٹکیں، تھرمس جھولیں تب سات سمندر طے کر کے اُن کی چاپیں مجھ کو چھو لیں اور دل مین درد کی ہوک اُٹھے اے میرے وطن اے پیارے وطن جب رنگ بھرا ہو شاموں میں جب بور لدا ہو آموں میں…

Read More

خورشید رضوی

پھول کھلنے کی کوشش سے اکتا گئے آنکھ بھر کر انھیں دیکھتا کون ہے

Read More

شناخت (قومی و ملی نظمیں) ۔۔ خورشید رضوی

DOWNLOAD شناخت۔۔ قومی و ملی نظمیں۔۔ خورشید رضوی

Read More

نیلے پہاڑ ۔۔۔ خورسید رضوی

نیلے پہاڑ ۔۔۔۔۔۔ پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ دُور اُفُق پر آسمانوں سے ملے سبز پیڑوں کی قطاروں سے پَرے پا پیادہ گائوں کی جانب رَواں سادہ دِل اَنجان بڑھیا کی طرح بادلوں کی گٹھڑیاں سر پر رکھے پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ جانے کب قدموں کی زنجیریں کٹیں جانے کب رستے کی دیواریں ہٹیں قفل ٹوٹیں حاضر و موجود کے جانے کب بادل کے رَتھ پر بیٹھ کر بجلیوں کے تازیانے مارتا بارشوں کے پانیوں میں بھیگتا مَیں اڑائوں آندھیوں کے راہوار پھر بُلاتے ہیں مجھے نیلے پہاڑ

Read More