خورشید رضوی ۔۔۔ اپنے باطن کے چمن زار کو رجعت کر جا

غزل اپنے باطن کے چمن زار کو رجعت کر جا دیکھ اب بھی روشِ دہر سے وحشت کر جا اپنا چلتا ہوا بت چھوڑ زمانے کے لیے اور خود عرصۂ ایام سے ہجرت کر جا مانتا جس کو نہ ہو دل وہ عمل خود پہ گزار جو فسانہ ہو اسے چھو کے حقیقت کر جا سر کٹایا نہیں جاتا ہے تو کٹ جاتا ہے بات اتنی ہے کہ اس کام میں سبقت کر جا جاں سے آگے بھی بہت روشنیاں ہیں خورشید اک ذرا جاں سے گزر جانے کی ہمت…

Read More

خورشید رضوی

نہ تھی پہاڑ سے کچھ کم مگر مصیبتِ عمر ترے خیال میں گزری تو مختصر گزری

Read More