فاقہ ہے بہت دِن سے بہت پیاس ہے عبّاس !
لوٹ آؤ ، سکینہ کو ابھی آس ہے عبّاس !
عبّاس جو آتے تھے تو خوش ہوتی تھیں زینب
فرماتی تھیں : کیا غم ہے اگر پاس ہے عبّاس
وہ ایسا جَری ہے کہ وفا ختم ہے اُس پر
دِل کے لئے ایمان کا احساس ہے عبّاس
کیا کیا صِفَتیں اِس میں ہیں ، شبّیر سے پوچھو
حیدر ہے، علَم دار ہے، عبّاس ہے عبّاس !!
زہرا کی دعا ہے تو علی کا ہے وہ مقصود
جو صرف علی کا ہے وہ الماس ہے عبّاس
اختر ! وہ سراپے میں ہے گویا اسد اللہ
کُھلتا ہی نہیں عکس کہ عکّاس ہے عبّاس
