جیسے ساری خدائی حاصل ہے مجھ کو تم تک رسائی حاصل ہے اب میں نبضِ جہاں چلاتا ہوں مجھ کو تیری کلائی حاصل ہے یوں تو نفرت ہے چار سو میرے بس محبت کی پائی حاصل ہے مجھ کو درکار تھی محبت جو سن لو مجھ کو وہ بھائی حاصل ہے خرچ کرتا ہوں میں کھلے دل سے جو ذرا سی کمائی حاصل ہے
Read MoreDay: جولائی 5، 2026
قمر رضا شہزاد ۔۔۔ اگرچہ ذکر ترا دم بدم کیا میں نے
اگرچہ ذکر ترا دم بدم کیا میں نے خیال پھر یہی آتا ہے کم کیا میں نے فراتِ عصر پہ ظالم سے جنگ کرتے ہوئے جو کٹ گیا وہی بازو علم کیا میں نے مہکتے کیوں نہ گلِ سرخ میرے سینے میں لہو کے سیل سے یہ دشت نم کیا میں نے کمال یہ ہے کہ پھر بھیگتا گیا کاغذ کبھی جو پیاس کا قصہ رقم کیا میں نے مجھے نہیں ہے کوئی اور غم خدا کا شکر ہر ایک غم کو ترے غم میں ضم کیا میں نے
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ دوا کوئی کیا کام لکھوں
دوا کوئی کیا کام لکھوں نسخے میں آرام لکھوں سورج کو مرتے دیکھوں وقت برابر شام لکھوں دو نالی بندوق چلاؤں جنگل میں کہرام لکھوں دھندہ کروں نمازوں کا پیشانی پر دام لکھوں آسمان پر جا پہنچوں اللہ تیرا نام لکھوں علوی آپ کے کھاتے میں آج کی شب کے جام لکھوں
Read Moreڈاکٹر شاہد اشرف ۔۔۔ اک تعلق میں توقع کا زیاں کرنے سے
اک تعلق میں توقع کا زیاں کرنے سے بد گُمانی بڑھی کچھ اور گماں کرنے سے اچھا لگتا تھا مجھے یوں ہی سلگنا لیکن سانس مشکل ہوا کمرے میں دھواں کرنے سے کچھ چھپاتا ہوں تو آنکھوں سے چھلک اٹھتا ہے میں عیاں ہونے لگا خود کو نہاں کرنے سے سوچتا رہتا ہوں لیکن نہیں کہتا کچھ بھی دل نے روکا ہے مجھے بات یہاں کرنے سے غم و اندوہ میں دل رک گیا میرا اک دن دھڑکنیں چلنے لگیں آہ و فغاں کرنے سے میں محبت کے لیے آیا…
Read Moreڈاکٹر افتخارالحق ۔۔۔ سسک رہی ہے زمیں اور آسماں چپ ہے
سسک رہی ہے زمیں اور آسماں چپ ہے مکان گریہ کناں ہیں کہ لامکاں چپ ہے یہ کہہ کے منصفِ اعلیٰ نے فیصلہ لکھّا کہ مدّعی کے گواہوں کا ہر بیاں چپ ہے بتاتے رہتے ہیں ماضی کے ادھ جلے لمحے ہماری راکھ سے اٹھتا ہوا دھواں چپ ہے بساط چیخ رہی ہے لہو کے دریا میں مگر کنارے پہ تنظیمِ شاطراں چپ ہے نہ کوئی جوڑنے والا نہ روکنے والا ستارے ٹوٹتے جاتے ہیں کہکشاں چپ ہے جو بار بار بدلتا رہا مری مٹّی مری نمو سے پریشاں وہ…
Read Moreحفیظ جونپوری ۔۔۔ دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شاید
دل کو اسی سبب سے ہے اضطراب شاید قاصد پھرا ہے لے کر خط کا جواب شاید آنکھیں چڑھی ہوئی ہیں باتیں ہیں بہکی بہکی آئے ہو تم کہیں سے پی کر شراب شاید کیا جانے کس ہوا میں اتنا اُبھر رہا ہے ہستی نہیں سمجھتا اپنی حباب شاید مجھ پر جو وہ سحر سے اس درجہ مہرباں ہیں شب کی دعا ہوئی ہے کچھ مستجاب شاید بیمار ہوں بندھی ہے دھن رات دن سفر کی غربت میں اپنی مٹی ہوگی خراب شاید پچھلے سے وصل کی شب آثار صبح…
Read Moreسید آل احمد ۔۔۔ ہوا کے ساتھ درختوں کے رابطے تھے بہت
ہوا کے ساتھ درختوں کے رابطے تھے بہت تھا عکسِ ذات فقط ایک‘ آئینے تھے بہت تمہارے بعد تو سنسان ہو گیا ہے شہر عجیب دن تھے وہ‘ تم تھے تو رتجگے تھے بہت ہمی نے ترکِ مراسم کی راہ اپنا لی یہ اور بات تعلق کے راستے تھے بہت سحر سے مانگ رہے ہیں وہ عکس خواب و خیال چراغِ شوق جلا کر جو سوچتے تھے بہت چھلک اُٹھے ہیں مرے صبر کے تموج سے رفاقتوں کے جو دریا اُتر گئے تھے بہت تھا جلوہ ریز مری خلوتوں میں…
Read Moreماجد صدیقی ۔۔۔ وقت کی دھُن پر لپکتی زندگی، رُک جائے گی
وقت کی دھُن پر لپکتی زندگی، رُک جائے گی نبض جس دم ٹوٹ جائے گی، گھڑی رُک جائے گی شاخ سے کٹ کر کسی کالر پہ کل سج جائے گا وُہ کہ جو ہونٹوں پہ آئے گی ہنسی، رُک جائے گی ہوتے ہوتے خشک موسم، ہاتھ دِکھلا جائے گا ہوتے ہوتے پیڑ کی، بالیدگی رُک جائے گی ہم نے ماجد کب یہ سوچا تھا کہ جسم و جان کو سینچتی ہے جو وہ موجِ تازگی، رُک جائے گی
Read Moreجوش ملیح آبادی ۔۔۔ مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش
مجھ سے ساقی نے کہی رات کو کیا بات اے جوش یعنی اضداد ہیں پروردۂ یک ذات اے جوش مست و بیگانہ گزر جا کرۂ خاکی سے یہ تو ہے رہ گزرِ سیلِ خیالات اے جوش اور تو اور خود انسان بہا جاتا ہے کتنا پر ہول ہے طوفانِ روایات اے جوش لوگ کہتے ہیں حجابات نہیں جز آیات کس سے کہئے کہ یہ آیات ہیں خود ذات اے جوش اہلِ الفاظ شریعت پہ مٹے جاتے ہیں کس کو سمجھاؤں مشیت کے اشارات اے جوش دیکھیے صبحِ جنوں ذہن میں…
Read Moreتابش مہدی ۔۔۔ جہانِ دل میں سناٹا بہت ہے
جہانِ دل میں سناٹا بہت ہے سمندر آج کل پیاسا بہت ہے یہ مانا وہ شجر سوکھا بہت ہے مگر اس میں ابھی سایا بہت ہے فرشتوں میں بھی جس کے تذکرے ہیں وہ تیرے شہر میں رسوا بہت ہے بہ ظاہر پر سکوں ہے ساری بستی مگر اندر سے ہنگاما بہت ہے اسے اب بھول جانا چاہتا ہوں کبھی میں نے جسے چاہا بہت ہے وہ پتھر کیا کسی کے کام آتا مگر سب نے اسے پوجا بہت ہے مرا گھر تو اجڑ جائے گا لیکن تمہارے گھر کو…
Read More