سسک رہی ہے زمیں اور آسماں چپ ہے مکان گریہ کناں ہیں کہ لامکاں چپ ہے یہ کہہ کے منصفِ اعلیٰ نے فیصلہ لکھّا کہ مدّعی کے گواہوں کا ہر بیاں چپ ہے بتاتے رہتے ہیں ماضی کے ادھ جلے لمحے ہماری راکھ سے اٹھتا ہوا دھواں چپ ہے بساط چیخ رہی ہے لہو کے دریا میں مگر کنارے پہ تنظیمِ شاطراں چپ ہے نہ کوئی جوڑنے والا نہ روکنے والا ستارے ٹوٹتے جاتے ہیں کہکشاں چپ ہے جو بار بار بدلتا رہا مری مٹّی مری نمو سے پریشاں وہ…
Read MoreTag: ڈاکٹر افتخارالحق
ڈاکٹر افتخارالحق
جو حقیقت میں کھنکتی تھی کہانی کیا ہوئی عمر کے گُلّک میں رکھی رایگانی کیا ہوئی
Read More