ڈاکٹر شاہد اشرف ۔۔۔ اک تعلق میں توقع کا زیاں کرنے سے  

اک تعلق میں توقع کا زیاں کرنے سے
بد گُمانی بڑھی کچھ اور گماں کرنے سے
اچھا لگتا تھا مجھے یوں ہی سلگنا لیکن
سانس مشکل ہوا کمرے میں دھواں کرنے سے
کچھ چھپاتا ہوں تو آنکھوں سے چھلک اٹھتا ہے
میں عیاں ہونے لگا خود کو نہاں کرنے سے
سوچتا رہتا ہوں لیکن نہیں کہتا کچھ بھی
دل نے روکا ہے مجھے بات یہاں کرنے سے
غم و اندوہ میں دل رک گیا میرا اک دن
دھڑکنیں چلنے لگیں آہ و فغاں کرنے سے
میں محبت کے لیے آیا ہوا ہوں لیکن
مجھ کو فرصت ہی نہیں کار جہاں کرنے سے
دنیا بچوں کی طرح دیکھ رہا تھا شاہد
لوگ ہنسنے لگے ، حیرت کو بیاں کرنے سے

Related posts

Leave a Comment