دوا کوئی کیا کام لکھوں نسخے میں آرام لکھوں سورج کو مرتے دیکھوں وقت برابر شام لکھوں دو نالی بندوق چلاؤں جنگل میں کہرام لکھوں دھندہ کروں نمازوں کا پیشانی پر دام لکھوں آسمان پر جا پہنچوں اللہ تیرا نام لکھوں علوی آپ کے کھاتے میں آج کی شب کے جام لکھوں
Read MoreTag: محمد علوی
محمد علوی
دو نالی بندوق چلاؤں جنگل میں کہرام لکھوں
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ اب کے برسات میں پانی آئے
اب کے برسات میں پانی آئے خشک دریا میں روانی آئے ہر گھٹا کالی ہو کاجل جیسی رنگ ہر کھیت پہ دھانی آئے پھول سا روپ لیے دن نکلے رات آئے تو سہانی آئے دھوپ آئے تو سہانی آئے چاندنی لے کے جوانی آئے شعر کہتے ہیں یونہی سے علوی کیا ہمیں بات بنانی آئے
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ سچ ہے کہ وہ برا تھا ہر اک سے لڑا کیا
سچ ہے کہ وہ برا تھا، ہر اک سے لڑا کیا لیکن اسے ذلیل کیا یہ برا کیا گلدان میں گلاب کی کلیاں مہک اٹھیں کرسی نے اس کو دیکھ کے آغوش وا کیا گھر سے چلا تو چاند مرے ساتھ ہو لیا پھر صبح تک وہ میرے برابر چلا کیا کوٹھوں پہ منہ اندھیرے ستارے اتر پڑے بن کے پتنگ میں بھی ہوا میں اڑا کیا اس سے بچھڑتے وقت میں رویا تھا خوب سا یہ بات یاد آئی تو پہروں ہنسا کیا چھوڑو پرانے قصوں میں کچھ بھی…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے
سکھانے بال ہی کوٹھے پہ آ گئے ہوتے اسی بہانے ذرا منہ دکھا گئے ہوتے تمہیں بھی وقت کی رفتار کا پتہ چلتا نکل کے گھر سے گلی تک تو آ گئے ہوتے گلا بھگو کے کہیں اور صدا لگا لیتا ذرا فقیر کو پانی پلا گئے ہوتے ارے یہ ٹھیک ہوا ہونٹ سی لیے ہم نے وگرنہ لوگ تجھے کب کا پا گئے ہوتے بھلا ہو چاند کا آتے ہی نور پہنچایا ستارے ہوتے تو آنکھیں چرا گئے ہوتے جوان جسموں کو ٹھنڈا نہ کر سکے لیکن ہوا کے…
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں
سوچتے رہتے ہیں اکثر رات میں ڈوب کیوں جاتے ہیں منظر رات میں کس نے لہرائی ہیں زلفیں دور تک کون پھرتا ہے کھلے سر رات میں چاندنی پی کر بہک جاتی ہے رات چاند بن جاتا ہے ساغر رات میں چوم لیتے ہیں کناروں کی حدیں جھوم اٹھتے ہیں سمندر رات میں کھڑکیوں سے جھانکتی ہے روشنی بتیاں جلتی ہیں گھر گھر رات میں رات کا ہم پر بڑا احسان ہے رو لیا کرتے ہیں کھل کر رات میں دل کا پہلو میں گماں ہوتا نہیں آنکھ بن جاتی…
Read Moreمحمد علوی … اچھے دن کب آئیں گے
اچھے دن کب آئیں گے کیا یوں ہی مر جائیں گے اپنے آپ کو خوابوں سے کب تک ہم بہلائیں گے بمبئی میں ٹھہریں گے کہاں دلی میں کیا کھائیں گے کھلتے ہیں تو کھلنے دو پھول ابھی مرجھائیں گے کتنی اچھی لڑکی ہے برسوں بھول نہ پائیں گے موت نہ آئی تو علویؔ چھٹی میں گھر جائیں گے
Read Moreمحمد علوی मुहम्मद अलवी
پہلا پھول کھلا تھا دل میں لہو میں خوشبو دوڑ گئی تھی पहला फूल खिला था दिल मेंलहू में ख़ुशबू दौड़ गई थी
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی
اک لڑکا تھا اک لڑکی تھی آگے اللہ کی مرضی تھی پہلا پھول کھلا تھا دل میں لہو میں خوشبو دوڑ گئی تھی پہلا سانس لیا تھا سکھ کا پہلی بار ہوا اک چلی تھی اب کیا جانیں لیکن پہلے چاند پہ اک بڑھیا رہتی تھی یہ بازار کہاں تھا پہلے یہاں تو پہلے ایک گلی تھی پانی میں بجلی کا گھر تھا پتھر میں چنگاری چھپی تھی
Read Moreمحمد علوی ۔۔۔ زمین لوگوں سے ڈر گئی ہے
زمین لوگوں سے ڈر گئی ہے سمندروں میں اتر گئی ہے خموشیوں میں صدا گجر کی خیال کے پر کتر گئی ہے کھڑے ہیں بے برگ سر جھکائے ہوا درختوں کو چر گئی ہے ہمیں تو نیند آئے گی نہ لیکن یہ رات بھی تو ٹھہر گئی ہے کہاں بھٹکتے پھرو گے علویؔ سڑک سے پوچھو کدھر گئی ہے
Read More