انصر منیر ۔۔۔ جیسے ساری خدائی حاصل ہے

جیسے ساری خدائی حاصل ہے مجھ کو تم تک رسائی حاصل ہے اب میں نبضِ جہاں چلاتا ہوں مجھ کو تیری کلائی حاصل ہے یوں تو نفرت ہے چار سو میرے بس محبت کی پائی حاصل ہے مجھ کو درکار تھی محبت جو سن لو مجھ کو وہ بھائی حاصل ہے خرچ کرتا ہوں میں کھلے دل سے جو ذرا سی کمائی حاصل ہے

Read More

انصر منیر ۔۔۔ ہجر کا کاروبار ٹھیک لگا

ہجر کا کاروبار ٹھیک لگا عشق پہلے تو یار ٹھیک لگا قید ہوتا گیا ترے دل میں دھڑکنوں کا حصار ٹھیک لگا میں نے پرکھا تھا بار بار اسے مجھ کو وہ بار بار ٹھیک لگا تیرے جیسا نہیں لگا پھر بھی کوئی مجھ کو ہزار ٹھیک لگا دائروں کا سفر ہی کرنا تھا مجھ کو اس کا مدار ٹھیک لگا رشک سے دیکھتا تھا وہ مجھ کو جو بھی دریا کے پار ٹھیک لگا

Read More

انصر منیر

کچھ بھی ترتیب سے نہیں رکھتا کتنا بے ربط کر دیا تو نے

Read More