انصر منیر ۔۔۔ ہجر کا کاروبار ٹھیک لگا

ہجر کا کاروبار ٹھیک لگا
عشق پہلے تو یار ٹھیک لگا

قید ہوتا گیا ترے دل میں
دھڑکنوں کا حصار ٹھیک لگا

میں نے پرکھا تھا بار بار اسے
مجھ کو وہ بار بار ٹھیک لگا

تیرے جیسا نہیں لگا پھر بھی
کوئی مجھ کو ہزار ٹھیک لگا

دائروں کا سفر ہی کرنا تھا
مجھ کو اس کا مدار ٹھیک لگا

رشک سے دیکھتا تھا وہ مجھ کو
جو بھی دریا کے پار ٹھیک لگا

Related posts

Leave a Comment