حدودِ جلوۂ کون و مکاں میں رہتے ہیں نہ جانے اہل نظر کس جہاں میں رہتے ہیں
Read MoreTag: قتیل شفائی
قتیل شفائی
بے خودی میں پہلوئے اقرار پہلے تو نہ تھا اتنا غافل وہ بُتِ عیار پہلے تو نہ تھا
Read Moreقتیل شفائی
اس پر تمہارے پیار کا الزام بھی تو ہے اچھا سہی قتیلؔ پہ بدنام بھی تو ہے
Read Moreقتیل شفائی
فرازِ بے خودی سے تیرا تشنہ لب نہیں اترا ابھی تک اس کی آنکھوں سے خمارِ شب نہیں اترا
Read Moreقتیل شفائی
کیا عشق تھا جو باعثِ رسوائی بن گیا یارو تمام شہر تماشائی بن گیا
Read Moreقتیل شفائی
برہنہ سر، لٹی املاک اور کچھ راکھ خیموں کی مدینے کے سفر کا بس اتنا سا اثاثہ ہے قتیل اب تجھ کو بھی رکھنا ہے اپنا سر ہتھیلی پر کہ تیرے شہر کا ماحول بھی اب کربلا سا ہے قتیل اس شخص کی تعظیم کرنا فرض ہے میرا جو صورت اور سیرت میں محمّد مصطفٰی سا ہے
Read Moreحسین ابن علی ۔۔۔ قتیل شفائی
حُسین غم کے صحراؤں میں گھنگھور گھٹا سا بھی تھا وہ دلاور، کئی روز کا پیا سا بھی تھا زندگی اُس نے خریدی نہ اصولوں کے عوض کیوں کہ وہ شخص محمدؐ کا نوا سا بھی تھا اپنے زخموں کا ہمیں بخش رہا تھا وہ ثواب اُس کی ہر آہ کا انداز دُعا سا بھی تھا صرف تیروں کی آئی ہوئی بوچھاڑ نہ تھی اُس کو حاصل غمِ زہرہ کا دلا سا بھی تھا جب گیا بن کے سوالی وہ حضورِ یزداں سرِ اقدس لئے ہاتھ میں کاسہ بھی تھا…
Read Moreقتیل شفائی ۔۔۔ حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
حسن کو چاند، جوانی کو کنول کہتے ہیں ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں وہ ترے حسن کی قیمت سے نہیں ہیں واقف پنکھڑی کو جو ترے لب کا بدل کہتے ہیں پڑ گئی پاؤں میں تقدیر کی زنجیر تو کیا ہم تو اس کو بھی تری زلف کا بل کہتے ہیں
Read Moreقتیل شفائی
ایک یہی پہچان تھی اپنی اس پہچان سے پہلے بھی پاکستان کا شہری تھا میں پاکستان سے پہلے بھی
Read Moreقتیل شفائی
ثبوتِ عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے کہ جس سے پیار کریں اُس پہ تہمتیں بھی دھریں
Read More