حسین ابن علی ۔۔۔ قتیل شفائی

حُسین

غم کے صحراؤں میں گھنگھور گھٹا سا بھی تھا
وہ دلاور، کئی روز کا پیا سا بھی تھا

زندگی اُس نے خریدی نہ اصولوں کے عوض
کیوں کہ وہ شخص محمدؐ کا نوا سا بھی تھا

اپنے زخموں کا ہمیں بخش رہا تھا وہ ثواب
اُس کی ہر آہ کا انداز دُعا سا بھی تھا

صرف تیروں کی آئی ہوئی بوچھاڑ نہ تھی
اُس کو حاصل غمِ زہرہ کا دلا سا بھی تھا

جب گیا بن کے سوالی وہ حضورِ یزداں
سرِ اقدس لئے ہاتھ میں کاسہ بھی تھا

اُس نے ہر دل میں کھلائے تھے محبت کے گُلاب
رہگذار اُس کے لہو سے چمن آ سا بھی تھا

میں تہی دست نہ تھا حشر کے میداں میں قتیل
چند اشکوں کا مرے پاس اثاثہ بھی تھا

Related posts

Leave a Comment