سلام ۔۔۔ واجد امیر

سلام

ہماری آنکھ میں ٹھہری تھی جھیل پانی کی
سو ہم نے خوب لگائی سبیل پانی کی

اُسے بھی چھید دیا بارشوں نے تیروں کی
بَس ایک مشک تھی وہ بھی قلیل پانی کی

سوال غیرتِ تشنہ لبی کا تھا ،ورنہ
زمین تھی نہیں اِتنی بخیل پانی کی

گِلا کسی کا کِسی اور سے نہیں بنتا
ہَوا تو آئی تھی بَن کے وکیل پانی کی

کِسی کے جبر  نے رستہ دیا نہ پانی کو
کسی کے صبر  نے مانی دلیل پانی کی

بُہت رُلایا ہے پانی نے خلق کو لیکن
خطا مُعاف اَے ربّ ِ جلیل پانی کی

Related posts

Leave a Comment