ننھی لڑکی ساحل کے اتنے نزدیک ریت سے اپنے گھر نہ بنا کوئی سرکش موج ادھر آئی تو تیرے گھر کی بنیادیں تک بہہ جائیں گی اور پھر ان کی یاد میں تو ساری عمر اداس رہے گی!
Read MoreTag: پروین شاکر
پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم
اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی پھر جاتی ہے دکھ کا شب خوں روز اُدھورا رہ جاتا ہے اور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہے میں اور میرا شہرِ محبت تاریکی کی چادر اوڑھے روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں حدِ سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سے اپنی روئے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیں انگشتا نے اک اک کر کے چھلنی ہونے کو آئے اب…
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ ناٹک
رت بدلی تو بھنوروں نے تتلی سے کہا آج سے تم آزاد ہو پروازوں کی ساری سمتیں تمھارے نام ہوئیں جاؤ جنگل کی مغرور ہوا کے ساتھ اُڑو بادل کے ہم راہ ستارے چھو آؤ خوشبو کے بازو تھامو اور رقص کرو رقص کرو کہ اس موسم کے سورج کی کرنوں کا تاج تمھارے سر ہے لہراؤ کہ ان راتوں کا چاند تمھاری پیشانی پر اپنے ہاتھ سے دعا لکھے گا گاؤ ان لمحوں کی ہوائیں تم کو تمھارے گیتوں پر سنگیت دیں گی پتے کڑے بجائیں گے اور پھولوں…
Read Moreپروین شاکر
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی
Read Moreپروین شاکر
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
Read Moreپروین شاکر
چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا
Read Moreپروین شاکر
وہ کہیں بھی گیا، لوٹا تو مرے پاس آیابس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
Read Moreپروین شاکر
بہت سے لوگ تھے مہمان میرے گھر لیکنوہ جانتا تھا کہ ہے اہتمام کس کے لیے
Read Moreپروین شاکر
وہ تو خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا
Read Moreضد ۔۔۔ پروین شاکر
ضد ۔۔۔۔ میں کیوں اُس کو فون کروں! اُس کے بھی تو علم میں ہو گا کل شب موسم کی پہلی بارش تھی!
Read More