وہ ایک لڑکی کہ جس سے شاید میں ایک پل بھی نہیں ملی ہوں میں اس کے چہرے کو جانتی ہوں کہ اس کا چہرہ تمہاری نظموں، تمہاری گیتوں کی چلمنوں سے ابھر رہا ہے یقین جانو مجھے یہ چہرہ تمہارے اپنے وجود سے بھی عزیز تر ہے کہ اس کی آنکھوں میں چاہتوں کے وہی سمندر چھپے ہیں جو میری اپنی آنکھوں میں موجزن ہیں وہ تم کو اک دیوتا بنا کر مری طرح پوجتی رہی ہے اس ایک لڑکی کا جسم خود میرا ہی بدن ہے وہ ایک…
Read MoreTag: پروین شاکر
پروین شاکر ۔۔۔ وہی نرم لہجہ
وہی نرم لہجہ جو اتنا ملائم ہے جیسے دھنک گیت بن کے سماعت کو چھونے لگی ہو شفق نرم کومل سروں میں کوئی پیار کی بات کہنے چلی ہو کس قدر رنگ و آہنگ کا کس قدر خوب صورت سفر وہی نرم لہجہ کبھی اپنے مخصوص انداز میں مجھ سے باتیں کرے گا تو ایسا لگے جیسے ریشم کے جھولے پہ کوئی مدھر گیت ہلکورے لینے لگا ہو وہی نرم لہجہ کسی شوخ لمحے میں اس کی ہنسی بن کے بکھرے تو ایسا لگے جیسے قوسِ قزح نے کہیں پاس…
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ نہیں میرا آنچل میلا ہے
نہیں میرا آنچل میلا ہے اور تیری دستار کے سارے پیچ ابھی تک تیکھے ہیں کسی ہوا نے ان کو اب تک چھونے کی جرأت نہیں کی ہے تیری اجلی پیشانی پر گئے دنوں کی کوئی گھڑی پچھتاوا بن کے نہیں پھوٹی اور میرے ماتھے کی سیاہی تجھ سے آنکھ ملا کر بات نہیں کر سکتی اچھے لڑکے مجھے نہ ایسے دیکھ اپنے سارے جگنو سارے پھول سنبھال کے رکھ لے پھٹے ہوئے آنچل سے پھول گر جاتے ہیں اور جگنو پہلا موقع پاتے ہی اڑ جاتے ہیں چاہے اوڑھنی…
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ بلاوا
میں نے ساری عمر کسی مندر میں قدم نہیں رکھا لیکن جب سے تیری دعا میں میرا نام شریک ہوا ہے تیرے ہونٹوں کی جنبش پر میرے اندر کی داسی کے اجلے تن میں گھنٹیاں بجتی رہتی ہیں!
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ نک نیم
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ٹھیک ہی کہتے ہو! کھیلنے والے سب ہاتھوں کو میں گڑیا ہی لگتی ہوں جو پہنا دو مجھ پہ سجے گا میرا کوئی رنگ نہیں جس بچے کے ہاتھ تھما دو میری کسی سے جنگ نہیں سوچتی جاگتی آنکھیں میری جب چاہے بینائی لے لو کوک بھرو اور باتیں سن لو یا میری گویائی لے لو مانگ بھرو سیندور لگاؤ پیار کرو آنکھوں میں بساؤ اور پھر جب دل بھر جائے تو دل سے اٹھا کے طاق پہ رکھ دو تم مجھ کو گڑیا…
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ جدائی کی پہلی رات
آنکھ بوجھل ہے مگر نیند نہیں آتی ہے میری گردن میں حمائل تری بانہیں جو نہیں کسی کروٹ بھی مجھے چین نہیں پڑتا ہے سرد پڑتی ہوئی رات مانگنے آئی ہے پھر مجھ سے ترے نرم بدن کی گرمی اور دریچوں سے جھجکتی ہوئی آہستہ ہوا کھوجتی ہے مرے غم خانے میں تیری سانسوں کی گلابی خوشبو! میرا بستر ہی نہیں دل بھی بہت خالی ہے اک خلا ہے کہ مری روح میں دہشت کی طرح اُترا ہے تیرا ننھا سا وجود کیسے اس نے مجھے بھر رکھا تھا ترے…
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ اوتھیلو
اپنے فون پہ اپنا نمبر بار بار ڈائل کرتی ہوں سوچ رہی ہوں کب تک اس کا ٹیلیفون انگیج رہے گا دل کڑھتا ہے اتنی اتنی دیر تلک وہ کس سے باتیں کرتا ہے!
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ ڈیوٹی
جان مجھے افسوس ہے تم سے ملنے شاید اس ہفتے بھی نہ آ سکوں گا بڑی اہم مجبوری ہے جان تمہاری مجبوری کو اب تو میں بھی سمجھنے لگی ہوں شاید اس ہفتے بھی تمہارے چیف کی بیوی تنہا ہوگی
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ فبأیّ آلاء ربکما تکذبٰن
دل آزاری بھی اک فن ہے اور کچھ لوگ تو ساری زندگی اسی کی روٹی کھاتے ہیں چاہے ان کا برج کوئی ہو عقرب ہی لگتے ہیں تیسرے درجے کے پیلے اخباروں پر یہ اپنی یرقانی سوچوں سے اور بھی زردی ملتے رہتے ہیں مالا باری کیبن ہوں یا پانچ ستارہ ہوٹل کہیں بھی قے کرنے سے باز نہیں آتے اوپر سے اس عمل کو فقرے بازی کہتے ہیں جس کا پہلا نشانہ عموما بل کو ادا کرنے والا ساتھی ہوتا ہے! اپنے اپنے کنوئیں کو بحر اعظم کہنے اور…
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ واہمہ
تمہارا کہنا ہے تم مجھے بے پناہ شدت سے چاہتے ہو تمہاری چاہت وصال کی آخری حدوں تک مرے فقط میرے نام ہوگی مجھے یقیں ہے مجھے یقیں ہے مگر قسم کھانے والے لڑکے! تمہاری آنکھوں میں ایک تِل ہے!
Read More