پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم

اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی پھر جاتی ہے دکھ کا شب خوں روز اُدھورا رہ جاتا ہے اور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہے میں اور میرا شہرِ محبت تاریکی کی چادر اوڑھے روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں حدِ سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سے اپنی روئے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیں انگشتا نے اک اک کر کے چھلنی ہونے کو آئے اب…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ ناٹک

رت بدلی تو بھنوروں نے تتلی سے کہا آج سے تم آزاد ہو پروازوں کی ساری سمتیں تمھارے نام ہوئیں جاؤ جنگل کی مغرور ہوا کے ساتھ اُڑو بادل کے ہم راہ ستارے چھو آؤ خوشبو کے بازو تھامو اور رقص کرو رقص کرو کہ اس موسم کے سورج کی کرنوں کا تاج تمھارے سر ہے لہراؤ کہ ان راتوں کا چاند تمھاری پیشانی پر اپنے ہاتھ سے دعا لکھے گا گاؤ ان لمحوں کی ہوائیں تم کو تمھارے گیتوں پر سنگیت دیں گی پتے کڑے بجائیں گے اور پھولوں…

Read More

پروین شاکر

کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی

Read More

پروین شاکر

میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ پروین شاکر

پروین شاکر پروین شاکر کے ہاں بھی اظہارِ ذات اور انکشافِ ذات زیادہ ہے مگر اظہارِ بیاں کی ایسی خوب صورتی کے ساتھ کہ اُن کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہا رہی درد کی کائنات بن گیا۔اگرچہ وہ خود اپنے ہم عصروں میں پروین فنا سید،کشور ناہیداورفہمیدہ ریاض کو پسند کرتی ہیں مگراُن کے کلام کی تاثیر اور مقبولیت نے انہیں دورِ جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام پر لا کھڑا کیا۔یوں اُنہیں کم عرصے اور کم عمری ہی میں ایسی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی کہ پیش روؤں…

Read More