پروین شاکر ۔۔۔ وہ باغ میں میرا منتظر تھا

وہ باغ میں میرا منتظر تھا اور چاند طلوع ہو رہا تھا زلفِ شبِ وصل کھل رہی تھی خوشبو سانسوں میں گھل رہی تھی آئی تھی میں اپنے پی سے ملنے جیسے کوئی گل ہوا سے کھلنے اک عمر کے بعد میں ہنسی تھی خود پر کتنی توجہ دی تھی! پہنا گہرا بسنتی جوڑا اور عطر سہاگ میں بسایا آئینے میں خود کو پھر کئی بار اس کی نظروں سے میں نے دیکھا صندل سے چمک رہا تھا ماتھا چندن سے بدن مہک رہا تھا ہونٹوں پہ بہت شریر لالی…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ ایک دوست کے نام

لڑکی! یہ لمحے بادل ہیں گزر گئے تو ہاتھ کبھی نہیں آئیں گے ان کے لمس کو پیتی جا قطرہ قطرہ بھیگتی جا بھیگتی جا تو جب تک ان میں نم ہے اور ترے اندر کی مٹی پیاسی ہے مجھ سے پوچھ کہ بارش کو واپس آنے کا رستہ کبھی نہ یاد ہوا بال سکھانے کے موسم ان پڑھ ہوتے ہیں!

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ چاند رات

گئے برس کی عید کا دن کیا اچھا تھا چاند کو دیکھ کے اس کا چہرہ دیکھا تھا فضا میں کیٹسؔ کے لہجے کی نرماہٹ تھی موسم اپنے رنگ میں فیضؔ کا مصرعہ تھا دعا کے بے آواز الوہی لمحوں میں وہ لمحہ بھی کتنا دل کش لمحہ تھا ہاتھ اٹھا کر جب آنکھوں ہی آنکھوں میں اس نے مجھ کو اپنے رب سے مانگا تھا پھر میرے چہرے کو ہاتھوں میں لے کر کتنے پیار سے میرا ماتھا چوما تھا! ہوا! کچھ آج کی شب کا بھی احوال سنا…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ خواب

کھلے پانیوں میں گھری لڑکیاں نرم لہروں کے چھینٹے اڑاتی ہوئی بات بے بات ہنستی ہوئی اپنے خوابوں کے شہزادوں کا تذکرہ کر رہی تھیں جو خاموش تھیں ان کی آنکھوں میں بھی مسکراہٹ کی تحریر تھی ان کے ہونٹوں کو بھی ان کہے خواب کا ذائقہ چومتا تھا! آنے والے نئے موسموں کے سبھی پیرہن نیلمیں ہو چکے تھے! دور ساحل پہ بیٹھی ہوئی ایک ننھی سی بچی ہماری ہنسی اور موجوں کے آہنگ سے بے خبر ریت سے ایک ننھا گھروندا بنانے میں مصروف تھی اور میں سوچتی…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ صرف ایک لڑکی

اپنے سرد کمرے میں میں اداس بیٹھی ہوں نیم وا دریچوں سے نم ہوائیں آتی ہیں میرے جسم کو چھو کر آگ سی لگاتی ہیں تیرا نام لے لے کر مجھ کو گدگداتی ہیں کاش میرے پر ہوتے تیرے پاس اڑ آتی کاش میں ہوا ہوتی تجھ کو چھو کے لوٹ آتی میں نہیں مگر کچھ بھی سنگ دل رواجوں کے آہنی حصاروں میں عمر قید کی ملزم صرف ایک لڑکی ہوں!

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ تاج محل

سنگِ مرمر کی خنک بانہوں میں حسنِ خوابیدہ کے آگے مری آنکھیں شل ہیں گنگ صدیوں کے تناظر میں کوئی بولتا ہے وقت جذبے کے ترازو پہ زر و سیم و جواہر کی تڑپ تولتا ہے! ہر نئے چاند پہ پتھر وہی سچ کہتے ہیں اسی لمحے سے دمک اٹھتے میں ان کے چہرے جس کی لو عمر گئے اک دلِ شب زاد کو مہتاب بنا آئی تھی! اسی مہتاب کی اک نرم کرن سانچۂ سنگ میں ڈھل پائی تو عشق رنگِ ابدیت سے سرافراز ہوا کیا عجب نیند ہے…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی

اپنے پندار کی کرچیاں چن سکوں گی شکستہ اڑانوں کے ٹوٹے ہوئے پر سمیٹوں گی تجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گی کبھی اپنے بارے میں اتنی خبر ہی نہ رکھی تھی ورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتی مرا حوصلہ اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا لیکن یہاں خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی!

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ مشورہ

ننھی لڑکی ساحل کے اتنے نزدیک ریت سے اپنے گھر نہ بنا کوئی سرکش موج ادھر آئی تو تیرے گھر کی بنیادیں تک بہہ جائیں گی اور پھر ان کی یاد میں تو ساری عمر اداس رہے گی!

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ نئے سال کی پہلی نظم

اندیشوں کے دروازوں پر کوئی نشان لگاتا ہے اور راتوں رات تمام گھروں پر وہی سیاہی پھر جاتی ہے دکھ کا شب خوں روز اُدھورا رہ جاتا ہے اور شناخت کا لمحہ بیتتا جاتا ہے میں اور میرا شہرِ محبت تاریکی کی چادر اوڑھے روشنی کی آہٹ پر کان لگائے کب سے بیٹھے ہیں گھوڑوں کی ٹاپوں کو سنتے رہتے ہیں حدِ سماعت سے آگے جانے والی آوازوں کے ریشم سے اپنی روئے سیاہ پہ تارے کاڑھتے رہتے ہیں انگشتا نے اک اک کر کے چھلنی ہونے کو آئے اب…

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ ناٹک

رت بدلی تو بھنوروں نے تتلی سے کہا آج سے تم آزاد ہو پروازوں کی ساری سمتیں تمھارے نام ہوئیں جاؤ جنگل کی مغرور ہوا کے ساتھ اُڑو بادل کے ہم راہ ستارے چھو آؤ خوشبو کے بازو تھامو اور رقص کرو رقص کرو کہ اس موسم کے سورج کی کرنوں کا تاج تمھارے سر ہے لہراؤ کہ ان راتوں کا چاند تمھاری پیشانی پر اپنے ہاتھ سے دعا لکھے گا گاؤ ان لمحوں کی ہوائیں تم کو تمھارے گیتوں پر سنگیت دیں گی پتے کڑے بجائیں گے اور پھولوں…

Read More