وہ کہیں بھی گیا، لوٹا تو مرے پاس آیابس یہی بات ہے اچھی مرے ہرجائی کی
Read MoreTag: Parveen shakir
پروین شاکر
بہت سے لوگ تھے مہمان میرے گھر لیکنوہ جانتا تھا کہ ہے اہتمام کس کے لیے
Read Moreپروین شاکر
وہ تو خوشبو ہے، ہواؤں میں بکھر جائے گا مسئلہ پھول کا ہے، پھول کدھر جائے گا
Read Moreضد ۔۔۔ پروین شاکر
ضد ۔۔۔۔ میں کیوں اُس کو فون کروں! اُس کے بھی تو علم میں ہو گا کل شب موسم کی پہلی بارش تھی!
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ پروین شاکر
پروین شاکر پروین شاکر کے ہاں بھی اظہارِ ذات اور انکشافِ ذات زیادہ ہے مگر اظہارِ بیاں کی ایسی خوب صورتی کے ساتھ کہ اُن کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہا رہی درد کی کائنات بن گیا۔اگرچہ وہ خود اپنے ہم عصروں میں پروین فنا سید،کشور ناہیداورفہمیدہ ریاض کو پسند کرتی ہیں مگراُن کے کلام کی تاثیر اور مقبولیت نے انہیں دورِ جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام پر لا کھڑا کیا۔یوں اُنہیں کم عرصے اور کم عمری ہی میں ایسی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی کہ پیش روؤں…
Read Moreپروین شاکر
قاتل کو کوئی قتل کے آداب سکھائے دستار کے ہوتے ہوۓ سر کاٹ رہا ہے
Read Moreپروین شاکر ۔۔۔ جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے
دُعا کا ٹوٹا ہُوا حرف، سرد آہ میں ہے تری جُدائی کا منظر ابھی نگاہ میں ہے ترے بدلنے کے با وصف تجھ کو چاہا ہے یہ اعتراف بھی شامل مرے گناہ میں ہے عذاب دے گا تو پھر مجھ کو خواب بھی دے گا میں مطمئن ہوں ،مرا دل تری پناہ میں ہے بکھر چُکا ہے مگر مُسکراکے ملتا ہے وہ رکھ رکھاؤ ابھی میرے کج کلاہ میں ہے جسے بہار کے مہمان خالی چھوڑ گئے وہ اِک مکا ن ابھی تک مکیں کی چاہ میں ہے یہی وہ…
Read Moreخُود سے مِلنے کی فُرصت کسے تھی ۔۔۔ پروین شاکر
خُود سے مِلنے کی فُرصت کسے تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی پندار کی کرچیاں چُن سکوں گی شکستہ اُڑانوں کے ٹوٹے ہُوئے پر سمیٹوں گی تجھ کو بدن کی اجازت سے رخصت کروں گی کبھی اپنے بارے میں اِتنی خبر ہی نہ رکھی تھی ورنہ بچھڑنے کی یہ رسم کب کی ادا ہو چکی ہوتی مرا حوصلہ اپنے دل پر بہت قبل ہی منکشف ہو گیا ہوتا لیکن ۔۔۔ یہاں خود سے ملنے کی فرصت کسے تھی!
Read Moreپروین شاکر
کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے
Read Moreپروین شاکر
گُل لے گئے عطّار، ثمر کھا گئے طائر سورج کی کرن باغ میں تاخیر سے آئی
Read More