پروین شاکر ۔۔۔ ٹوٹی ہے میری نیند مگر، تم کو اس سے کیا

ٹوٹی ہے میری نیند مگر، تم کو اس سے کیا بجتے رہے ہواؤں سے در، تم کو اس سے کیا تم موج موج مثلِ صبا گھومتے رہو کٹ جائیں میری سوچ کے پر، تم کو اس سے کیا اوروں کا ہاتھ تھامو، انھیں راستہ دکھاؤ میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر، تم کو اس سے کیا ابرِ گریز پا کو برسنے سے کیا غرض سیپی میں بن نہ پائے گہر، تم کو اس سے کیا لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو تم نے تو ڈال دی ہے…

Read More

توقع ۔۔۔ پروین شاکر

توقع ۔۔۔۔ جب ہوا دھیمے لہجوں میں کچھ گنگناتی ہُوئی خواب آسا، سماعت کو چھو جائے، تو کیا تمھیں کوئی گُزری ہُوئی بات یاد آئے گی؟

Read More

اجنبی ۔۔۔۔۔۔ پروین شاکر

اجنبی ۔۔۔۔ کھوئی کھوئی آنکھیں بکھرے بال شکن آلود قبا لُٹا لُٹا انسان ! سائے کی طرح سے میرے ساتھ رہا کرتا ہے، لیکن کسی جگہ مل جائے تو گھبرا کے مُڑ جاتا ہے اور پھر دور سے جا کر مجھ کو تکنے لگتا ہے کون ہے یہ؟

Read More