اکرم کنجاہی ۔۔۔ پروین شاکر

پروین شاکر پروین شاکر کے ہاں بھی اظہارِ ذات اور انکشافِ ذات زیادہ ہے مگر اظہارِ بیاں کی ایسی خوب صورتی کے ساتھ کہ اُن کے اپنے جذبات و احساسات کا اظہا رہی درد کی کائنات بن گیا۔اگرچہ وہ خود اپنے ہم عصروں میں پروین فنا سید،کشور ناہیداورفہمیدہ ریاض کو پسند کرتی ہیں مگراُن کے کلام کی تاثیر اور مقبولیت نے انہیں دورِ جدید کی شاعرات میں نمایاں مقام پر لا کھڑا کیا۔یوں اُنہیں کم عرصے اور کم عمری ہی میں ایسی شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی کہ پیش روؤں…

Read More

پروین شاکر

کسی کے دھیان میں ڈوبا ہوا دل بہانے سے مجھے بھی ٹالتا ہے

Read More

پروین شاکر ۔۔۔ ٹوٹی ہے میری نیند مگر، تم کو اس سے کیا

ٹوٹی ہے میری نیند مگر، تم کو اس سے کیا بجتے رہے ہواؤں سے در، تم کو اس سے کیا تم موج موج مثلِ صبا گھومتے رہو کٹ جائیں میری سوچ کے پر، تم کو اس سے کیا اوروں کا ہاتھ تھامو، انھیں راستہ دکھاؤ میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر، تم کو اس سے کیا ابرِ گریز پا کو برسنے سے کیا غرض سیپی میں بن نہ پائے گہر، تم کو اس سے کیا لے جائیں مجھ کو مالِ غنیمت کے ساتھ عدو تم نے تو ڈال دی ہے…

Read More