افتخار شاہد ۔۔۔ سورج ہمارے بخت کا ایسے بھی ڈھل گیا

سورج ہمارے بخت کا ایسے بھی ڈھل گیا
اس بار گھر ہمارا چراغوں سے جل گیا

گوری نے آ کے دھوپ میں جرسی اتار دی
اور دیکھتے ہی دیکھتے موسم بدل گیا

وہ سہہ سکا نہ عشق کی ہلکی سی آنچ بھی
اک پل میں سارا روپ کا سونا پگھل گیا

یوں ہی نہیں ہے آنکھ میں خوابوں کی روشنی
میں ریگزارِ عشق میں پلکوں کے بل گیا

تیرے بنا بھی عشق سلامت ہے آج تک
یہ طِفل ماں کی گود سے باہر بھی پل گیا

رکھا جو اُس نے درد کے شانوں پہ اپنا ہاتھ
گرتے ہوئے میں پھر سے اچانک سنبھل گیا

پھر ایک دن میں ہو گیا سائے سے بے نیاز
پھر ایک دن یہ عمر کا سورج ہی ڈھل گیا

حسنِ سفر کو کھا گئی منزل کی دلکشی
میں اپنا ہاتھ چھوڑ کے آگے نکل گیا

سرخی شفق کی رات کے ساغر میں گُھل گئی
دستِ فلک سے شام کا سورج پھسل گیا

شاہد شبِ وصال جدائی میں کٹ گئی
خوشیاں اداس رات کا بستر نگل گیا

Related posts

Leave a Comment