ہم نے محبت جھیلی ہے
خون کی ہولی کھیلی ہے
خواہش نئی نویلی ہے
چنچل شوخ اٹکھیلی ہے
تارے میرے ساتھی ہیں
چاندنی رات سہیلی ہے
کوئی نہ اِس کو بْوجھ سکا
جیون ایک پہیلی ہے
اپنی محبت کی قاتل
اْونچی لال حویلی ہے
کوئی کسی کے ساتھ نہیں
سب کی ذات اکیلی ہے
خواب گرے سب آنکھوں سے
خالی ہاتھ ہتھیلی ہے
تُو جو میرے ساتھ چلے
ہر ساعت البیلی ہے
اشک پلا کر پالوں گی
اُلفت گود میں لے لی ہے
میرا جُھمکا جہاں گرا
شہر کا نام بریلی ہے
چاہت تیری یوں میٹھی
جیسے گُڑ کی بھیلی ہے
