مجھے وہ بھول گیا ہے تو کوئی بات نہیں
نظر سے دور ہوا ہے تو کوئی بات نہیں
کہاں ہر اک کا مقدر ہے آبلہ پائی
جو زخم زخم ہرا ہے تو کوئی بات نہیں
چراغِ فکر جلائیں گے محفلِ شب میں
دیا بجھا کے گیا ہے تو کوئی بات نہیں
چلے گی ٹھنڈی ہوا بھی، یقینِ کامل ہے
چمن میں گرم ہوا ہے تو کوئی بات نہیں
یہی ہے عشق کا تریاق ہم بھی کہتے ہیں
جو اس نے زہر پیا ہے تو کوئی بات نہیں
یہ اختلاف محبت کی جان ہے پیارے
اگر وہ شکوہ سرا ہے تو کوئی بات نہیں
وہ خود ہی آئے گا اک روز لوٹ کر دانش
اگر وہ ہم سے خفا ہے تو کوئی بات نہیں
