رخشندہ نوید ۔۔۔ دو غزلیں

مشکل روڑہ بن جاتا ہے
ملن بچھوڑہ بن جاتا ہے
آنسو ، آنسو مل کے سمندر
یونہی تھوڑا بن جاتا ہے
اتنا تیز دھڑکتا یہ دل
پاگل گھوڑا بن جاتا ہے
چار اطراف ، نکیلے پتھر
حرف ، ہتھوڑا بن جاتا ہے
انجانے دو انسانوں کا
فلک پہ جوڑا بن جاتا ہے
کینسر بعد میں ، دکھ کا پہلے
بدن میں پھوڑا بن جاتا ہے
موم کے اک پتلے سا انساں
جدھر کو موڑا، بن جاتا ہے
رخشندہ ! محبوب تمھارا
ایک بھگوڑا بن جاتا ہے

۔۔۔۔۔۔

درد و غم زیادہ ہیں، نسبتا خوشی کم ہے
زندگی کے حصے میں ایک زندگی کم ہے

بار، بار اس دل کا دار پر چڑھے رہنا
جان دینے والوں کی، کیا یہ خودکشی کم ہے؟

اک تضاد دیکھا ہے عمر بھر یہی ہم نے
خوش مزاج کہلا ئے ، ہونٹ پر ہنسی کم ہے
چند ایک سے ہٹ کر چار سو زمانے کی
پیچ دار گلیوں میں، حسن و روشنی کم ہے

مل تو جائے ، رخشندہ !پکی نوکری لیکن
جان من ترے اندر خوئے بندگی کم ہے

Related posts

Leave a Comment