کوئی ستم نیا نہیں ، کوئی کرم نیا نہیں
مرکزِ التفات بھی ، جاں ، ہدفِ خدنگ بھی
Related posts
-
راحت اندوری
بہت غرور ہے دریا کو اپنے ہونے پر جو میری پیاس سے الجھے تو دھجیاں اڑ... -
-
