کوئی ستم نیا نہیں ، کوئی کرم نیا نہیں
مرکزِ التفات بھی ، جاں ، ہدفِ خدنگ بھی
Related posts
-
پروین شاکر
کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں... -
-
