اعجاز کنور راجا ۔۔۔ صرصر کو لوگ باد صبا ماننے لگے

صرصر کو لوگ باد صبا ماننے لگے
ذرے کو آفتاب کہا، ماننے لگے

لازم ہوا ہے جب سے یہاں احترامِ شب
ظلمت کو لوگ رب کی رضا ماننے لگے

ظاہر کا خوف پھیل کے باطن پہ چھا گیا
ہم اپنی زندگی کو سزا ماننے لگے

دن میں بھی چل رہا ہے یہاں کاروبارِ شب
کھوٹے کو لوگ جب سے کھرا ماننے لگے

اک پل میں اتنے رنگ بدلتی ہے زندگی
اب کیا کوئی ہرے کو ہرا ماننے لگے

آنکھیں کھلی ہیں ذہنِ رسا بھی ہے جس کے پاس
کیسے وہ ہر کسی کا کہا مانتے لگے

ہر حکم پر کیا سرِ تسلیم خم مگر
ایسا نہیں کہ دل کو خدا ماننے لگے

کیسے کٹے گا شب کا سفر ہم اگر کنور
ماچس کی تیلیوں کو دیا ماننے لگے

Related posts

Leave a Comment