حمد باری تعالیٰ ۔۔۔ طارق بٹ

ہوئی ہے نقش گر، آنکھوں کو، روشنی کیوں کر
ہیں دل دماغ ، عبارت خیال کی کیوں کر

یہ کون سُر ہیں جو بُنتے ہیں دھڑکنیں دل کی
قرار پاتی ہے کانوں میں نغمگی کیوں کر

ہے کیا نیاز جبینوں کو سجدہ گاہوں سے
یہ مُہر ہوتی ہے محرابِ بندگی، کیوں کر

چراغ ہوتی ہے آنکھوں میں کیسے بے خوابی
شجر جگائے ، اذانِ سحر گہی کیوں کر

خزاں نصیب جو ، ہر ایک زندگی کی رو
پہ ایک شاخِ الم ہے ہری بھری کیوں کر

ہو تلخ تاب ، کسی لمحے ، چاشنی کا سواد
کبھی ہے زہر پیالے میں زندگی کیوں کر

فضا میں کون جگاتا ہے موسموں کی ترنگ
یہ انگ انگ چٹختی ہے تازگی کیوں کر

ہیں میرے رب کی سجائی یہ رونقیں ساری
نظر نظر نہ ہو آخر کو ، حیرتی کیوں کر

جو تار و پود نہ ہوں میرے، حمد میں اُس کی
تو با لباس ہو، میری یہ بندگی کیوں کر

Related posts

Leave a Comment