مسعود احمد ۔۔۔ پھولوں کو خوشبو آتی ہے

پھولوں کو خوشبو آتی ہے
گلشن میں جب تو آتی ہے

چاندنی چاندنی رات سے پہلے
پیر تمہارے چھو آتی ہے

جام صراحی جیسی لڑکی
کرکے روز وضو آتی ہے

برزخ کے اسرار میں گم صم
نیند کسی پہلو آتی ہے

سچ مچ میری ذات کے اندر
مجھ سے پہلے تو آتی ہے

لا تقنطو اس کی رحمت
خلقت تقنطو آتی ہے

چاروں جانب گھوم رہا ہوں
جیسے تو ہر سو آتی ہے

اس کی یاد بھی جیسے خود وہ
خوش طینت خوش خو آتی ہے

Related posts

Leave a Comment