اکرم کنجاہی ۔۔۔ زاہدہ حنا

زاہدہ حنا زاہدہ حنا ایک ممتاز صحافی، کالم نگار، فکشن اور ڈراما نگار ہیں۔ ۵؍ اکتوبر ۱۹۴۶ء کے روز سہسرام (بہار) میں پیدا ہوئیں۔والد کی ملازمت کی وجہ سے بچپن رام پور میں گزرا۔اُردو اور فارسی کا کلاسیکی ادب اپنے والد سے پڑھا۔اِن کی ادبی تربیت میں والد کا بہت حصہ رہا۔بہت عرصے سے ایک قومی اخبار میں ’’نرم گرم‘‘ کے نام سے کالم لکھ رہی ہیں۔وہ ریڈیو پاکستان، بی بی سی اور وائس آف امریکا سے بھی منسلک رہیں۔ اِن دنوں ادارہ انجمن ترقیٔ اُردو، کراچی کی سربراہ ہیں۔اُن…

Read More

آلِ احمد سرور ۔۔۔ اردو تنقید کے بنیادی افکار

اردو میں تنقید مغرب کی دین ہے، تنقیدی شعور اس سے پہلے بھی تھا اور ایک طرف یہ فن کاروں کے اشارات و نکات میں ظاہر ہوتا تھا، دوسری طرف تذکروں کی مدح و قدح میں۔ مگر اس کی ضرورت اسی وقت محسوس ہوئی جب ۱۸۵۷ء کے بعد زندگی کے تقاضوں نے ادب کارخ موڑ دیا اور ادب کے مطالعے کے لیے ایک نئی نظر کی ضرورت پڑی۔ تذکروں میں فن کا تصور فنِ شریف کا ہے۔ اس میں جو افکار جھلکتے ہیں ان پر عینیت کا سایہ ہے۔ اس…

Read More

آغا بابر ۔۔۔ پھیلتا ہوا کاجل (افسانہ)

’’اس وقت کا خیال کرو جب عورت کا بال سفید ہوجاتا ہے، جب عورت کے پھل پک کر سڑ جاتے ہیں اور معاشرے کی خود کار مشین اس کو اگلی قطار سے پھٹک کر پچھلی قطار میں پھینک دیتی ہے۔ اتنی دیر میں اگلی قطاروں میں نئی لڑکیاں آجاتی ہیں۔‘‘ ’’آجاتی ہوں گی۔‘‘ سلیمہ بغیر کسی ر د عمل کے بولی۔ چہرہ کورے کا کورا۔ جوار نہ بھاٹا۔ جیسے جامد پانی میں کنکر تک نہ گرے۔ یہ بات نصر ہی نے نہیں کہی تھی۔ ایسی باتیں کئی لڑکے اور کہہ…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ ممتاز شیریں

ممتاز شیریں ممتاز شیریں نے اُردو افسانے ہی میں کامیابی کے جھنڈے نہیں گاڑے بلکہ حسن عسکری کی ٹھریک پر وہ ایک بہترین ادبی ناقد کے طور پر بھی نمایاں ہوئیں۔اکثر ناقدین فن کا خیال ہے کہ اُں کے اکثر افسانوں میں سوانحی رنگ، ذاتی زندگی، میاں بیوی کی والہانہ محبت، خوش گوار زندگی، استوار تعلقات کا ذکر ملتا ہے۔بہر حال اگر ذاتی زندگی اور تجربات کو بھی افسانوں کا موضوع بنایا جائے تو اِس میں بھی کوئی قباحت نہیں۔اُن کے افسانوں میں اکثر پلاٹ اسی نوعیت کے ہیں۔جیسے اُنہوں…

Read More

نظیر اکبر آبادی … ایک تعارف

نظیر اکبر آبادی کا نام شیخ ولی محمد تھا۔ نظیر تخلص رکھ کر شاعری کی۔ نظیر 1735 میں دلی میں پیدا ہوئے۔ بعض محققین کے نزدیک نظیر  1732-1740 کے عرصہ کے دوران پیدا ہوئے۔  ڈاکٹر رام بابو سکسینہ کے مطابق نادر شاہ کے دہلی حملہ کے وقت پیدا ہوئے تھے۔ آپ کا مزار دہلی میں ہے۔  آپ کے والد کا نام محمد فاروق تھاجو اپنے والدکی بارہ اولادوں میں سے صرف ایک ہی بچے تھے۔ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ والدہ کے ساتھ آگرہ منتقل ہو گئے اور محلّہ تاج…

Read More

ایم مبین ۔۔۔ ٹوٹی چھت کا مکان

وہ گھر میں اکیلا اور بیزار بیٹھا تھا۔ کبھی کبھی تنہا رہنا کتنا اذیت ناک ہوتا ہے ۔ اکیلے بیٹھے بلاوجہ گھر کی ایک ایک چیز کو گھورتے رہنا۔ سوچنے کے لیے کوئی خیال یا موضوع بھی تو نہیں ہے کہ اسی کے بارے میں غور کیا جائے ۔ عجیب و غریب خیالات و موضوعات ذہن میں آتے ہیں ۔ جن پر غور کر کے کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا ہے ۔ اس نے اپنا سر جھٹک کر سر اُٹھانے والے ان لایعنی خیالوں کو ذہن سے نکالا اور…

Read More

محبت بے کراں ہے (ناصر علی سید ۔۔۔ فن اور شخصیت) ۔۔۔۔ حسام حر ، جواد

محبت بے کراں ہے (ناصر علی سید ۔۔۔ فن اور شخصیت) DOWNLOAD

Read More

بیدل۔ایک مطالعہ:اختر عثمان۔تبصرہ نگار:شناور اسحاق

تبصرہ نگار: شناور اسحاق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیدل ایک مطالعہ از اختر عثمان (اونچی دکان پھیکا پکوان) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ گذشتہ دنوں مختلف دوستوں کی وال پر مذکورہ بالا کتاب کی اشاعت کی خبر پڑھی تو …. اسلام آباد سے بیٹے کے ہاتھ کتاب منگوا لی اور عید کے دنوں میں اس کامطالعہ کیا … غیر متوقع طور پر سخت مایوسی ہوئی… پتا چلا کہ مجلسی تنقید اور خالص تنقید میں کتنا فرق ہوتا ہے … نثر اور بالخصوص تنقید انتہا درجے کی ذمہ داری کا تقاضا کرتی ہے … بدقسمتی سے اس کا…

Read More

توقیر عباس ۔۔۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی تاریخ کے دائرے

ڈاکٹر جمیل جالبی کی ادبی تاریخ کے دائرے  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تحقیق کا سب سے مہتمم بالشان کام کسی پورے ادب کی تاریخ لکھنا ہے۔ اس سے کہیں بڑا کام ذاتی تشخص کی نفی کرکے مؤرخانہ طبیعت کی تشکیل ہے ۔ تاریخ میں مؤرخ کے جذبات، خیالات اور افکار کا کہیں بھی در آنا، تاریخ کو متاثر کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ زبان کا استعمال بھی تاریخ کے کسی واقعے کو کوئی بھی معنی پہنا سکتا ہے ۔جب یہ پوچھا جاتا ہے کہ تنقید، تحقیق، تدوین اور ادب کی زبان کیسی…

Read More

پنجاب کا مقدمہ ۔۔۔ حنیف رامے

پنجاب کا مقدمہ حنیف رامے DOWNLOAD

Read More