اکرم کنجاہی ۔۔۔ زاہدہ حنا

زاہدہ حنا زاہدہ حنا ایک ممتاز صحافی، کالم نگار، فکشن اور ڈراما نگار ہیں۔ ۵؍ اکتوبر ۱۹۴۶ء کے روز سہسرام (بہار) میں پیدا ہوئیں۔والد کی ملازمت کی وجہ سے بچپن رام پور میں گزرا۔اُردو اور فارسی کا کلاسیکی ادب اپنے والد سے پڑھا۔اِن کی ادبی تربیت میں والد کا بہت حصہ رہا۔بہت عرصے سے ایک قومی اخبار میں ’’نرم گرم‘‘ کے نام سے کالم لکھ رہی ہیں۔وہ ریڈیو پاکستان، بی بی سی اور وائس آف امریکا سے بھی منسلک رہیں۔ اِن دنوں ادارہ انجمن ترقیٔ اُردو، کراچی کی سربراہ ہیں۔اُن…

Read More

فرحت پروین ۔۔۔ گولڈ فش

گولڈ فش​ وہ کسی بے روح لاشے کی طرح بالکل سیدھی لیٹی ہوتی۔ صرف وقفے وقفے سے جھپکتی پلکیں اس کے زندہ ہونے کا پتہ دیتیں ۔وہ شاذ ہی کروٹ کے بَل لیٹتی یا کروٹ بدلتی۔ کم از کم شازینہ نے اسے کبھی پہلو کے بل لیٹے نہیں دیکھا تھا۔ وہ جب بھی اس کے پاس گئی اُسے یونہی مردوں کی طرح بے حس و حرکت لیٹے ہوئے پایا۔ وہ ایک آرام دہ پرائیویٹ کمرے میں مقیم تھی۔ اُس کے کمرے میں ہر سہولت موجود ہونے کے علاوہ روزانہ تازہ…

Read More

محمد جواد ۔۔۔ اچھے لوگ برے لوگ​

اچھے لوگ برے لوگ​ یقین کیجیے کرائے کے مکانوں میں دھکے کھانے والوں کی بھی اپنی ایک نفسیات ہوتی ہے یایوں کہیے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بن جاتی ہے ۔پکاکوٹھاڈال کر رہنے والے کچھ اور طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔وہ اضطراب ، وہ خانہ بدوشانہ قسم کامزاج اور وہ عجیب طرح کا عدم تحفظ بس وہی لوگ بھگتتے ہیں جوان تجربات سے گزرتے ہیں ۔میں یہ سب باتیں آپ سے اس لیے shareکر رہا ہوں کہ دوماہ قبل میں نے اپنی بیوی اور دوبچوں سمیت پھرنقل مکانی…

Read More

خالد علیم ۔۔۔ ایک کہانی نئی پرانی​

ایک کہانی نئی پرانی​ تو کیا تم سمجھتے ہو کہ تم نے کہانیاں لکھنی سیکھ لی ہیں ۔بہت خوب!۔۔۔ سچی بات تو یہ ہے کہ تمھاری اکثر کہانیوں میں تمھاری اپنی ہی دہرائی ہوئی باتیں ہوتی ہیں ۔ تھوڑ ا سا مرچ مصالحہ ڈال لیا ۔ کچھ نئے معنی پر لفظوں کی نئی ترتیب کا رنگ روغن چڑ ھا لیا اور سمجھ لیا کہ تم نے کہانی لکھ لی۔ تم نے کبھی غور ہی نہیں کیا کہ تم خود بھی ایک کہانی ہو۔ ایسی کہانی کہ اگر لکھی جائے ‘…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ سیدہ حنا

سیدہ حنا ایک شاعرہ، افسانہ نگار اور مدیرہ تھیں۔اُنہوں نے اپنے بھائی حامد سروش کے ساتھ مل کر خیبر پختونخوا سے ایک کامیاب اور معیاری ادبی پرچہ ’’ابلاغ‘‘ کے نام سے جاری کیا تھا۔اِس پرچے نے کسی قسم کی مالی معاونت اور اشتہارات کے بغیر قومی سطح پر اپنی پہچان بنائی اور ایک عرصہ تک ادب کی بے لوث خدمت کی۔سیّدہ حنا کا پہلا افسانہ ۱۹۵۶ء میںمولانا صلاح الدین احمد کے مشہور پرچے’’ادبی دنیا‘‘ میں شائع ہوا۔مولانا نے افسانے پر مندرجہ ذیل نوٹ لکھ کر انہیں بے حد سراہا: ’’اُفقِ…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ زیتون بانو

زیتون بانو اُردو اور پشتو کی نام ورشاعرہ، ادیبہ، ڈراما نگار ۱۸؍ جون ۱۹۳۸ء کے روز پشاور میں پیدا ہوئیں۔اُن کے والد بھی اپنے زمانے کے معروف روشن خیال ادیب تھے۔وہ ابتدا میں فرضی ناموں سے ادبی جریدوں میں لکھتی رہیں۔پشتو اور اُردو میں اعلیٰ تعلیم کے بعد ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہیں۔ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لیے ڈرامے لکھے۔ابھی طالبہ ہی تھیں کہ اُن کا پشتو افسانوں کا مجموعہ ہُنڈارہ (آئینہ ۱۹۵۸ء) شائع ہوا۔دوسرا مجموعہ مات بنگری (ٹوٹی چوڑیاں) شائع ہوا۔ مجموعی طور پر اُن کی پشتو میں آٹھ…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ عصمت چغتائی

عصمت چغتائی عصمت سے قبل ، اُردو ادب میں پندرہ سے بیس ناول نگار خواتین موجود ہیں اور اُن کے پچاس ساٹھ ناولوں کا ذکر بھی تاریخِ ادب میں ملتا ہے مگرعصمت چغتائی اُن ناول نگاروں میں سے ہیں جنہوں نے اُردو میں پہلی بار متوسط گھرانے کی عورتوں کی جنسی گھٹن پر قلم اٹھایا ہے لیکن انہوں نے کہیں بھی اُن کے پس منظر میں سماجی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا۔ اس لیے ان کے فن میں داخلیت، نفسیات کی پیچیدگیوں کے ساتھ گرد و پیش کے اثرات…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔۔ قرۃ العین حیدر

قرۃالعین حیدر یہ الگ بحث ہے کہ اُردو میں نیا افسانہ کیا ہے ؟ مگر بہت سے نا قدین کے بر عکس جنہوں نے کرشن چندر کے ’’غالیچہ‘‘ یا منٹو کے ’’پھندنے‘‘ کو نئے افسانے کا آغاز قرار دیا ہے، محمود ہاشمی اختلاف کرتے ہوئے قرۃ العین کو نئے افسانے کا نقطۂ آغاز قرار دیتے ہیں۔انہوں نے تقسیم ہند سے قبل لکھنے کی ابتدا کر دی تھی مگر آزادی کے بعد جو کچھ لکھا وہ آئندگان کے لیے نشانِ راہ ثابت ہوا۔شروع کی کچھ تخلیقات میں اسلوب روایتی تھا مگر…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ ممتاز شیریں

ممتاز شیریں ممتاز شیریں نے اُردو افسانے ہی میں کامیابی کے جھنڈے نہیں گاڑے بلکہ حسن عسکری کی ٹھریک پر وہ ایک بہترین ادبی ناقد کے طور پر بھی نمایاں ہوئیں۔اکثر ناقدین فن کا خیال ہے کہ اُں کے اکثر افسانوں میں سوانحی رنگ، ذاتی زندگی، میاں بیوی کی والہانہ محبت، خوش گوار زندگی، استوار تعلقات کا ذکر ملتا ہے۔بہر حال اگر ذاتی زندگی اور تجربات کو بھی افسانوں کا موضوع بنایا جائے تو اِس میں بھی کوئی قباحت نہیں۔اُن کے افسانوں میں اکثر پلاٹ اسی نوعیت کے ہیں۔جیسے اُنہوں…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ سیمیں کرن

سیمیں کرن گلبرگ،فیصل آباد میں مقیم سیمیں کرن حالیہ دور کی فکشن نگار ہیں۔ماضی قریب میں پاکستان اور پاکستان سے باہر فکشن کے منظر نامے میں انہوں نے بہت سرعت اور محنت سے اپنی جگہ بنائی ہے۔وہ کالم نگار کی حیثیت سے بھی اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ ادبی جرائد میں تسلسل کے ساتھ شائع ہونے کی وجہ سے نہ صرف اُن کوسنجیدہ قارئین کی ایک بڑی تعداد میسر ہے بلکہ صاحبانِ نقد و نظر پر بھی انہوں نے اپنا اعتبار قائم کیا ہے۔ اُن کا ادبی تخلیقی اثاثہ معیاراور…

Read More