پنجرہ … رشید امجد

بیٹھے بیٹھے خیال آیا کہ اس دنیا کے اندر ایک اور دُنیا موجود ہے جس میں ہم جیسے لوگ رہ رہے ہیں اور ہم جیسے کام کررہے ہیں، ہم زادوں کی یہ دُنیا نظر تو نہیں آتی لیکن کبھی کبھی اپنا احساس ضرور کراتی ہے۔ ”تمہیں اس کا خیال کیسے آیا؟“ مرشد نے پوچھا ”بس یونہی، مجھے ایسا لگا جیسے جو کچھ میں کررہا ہوں، اسے پہلے بھی کرچکا ہوں۔“ وہ سوچتے ہوئے بولا۔ ”کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے میں خود کو دہرارہا ہوں۔“ مرشد سوچ میں پڑگیا، تادیر…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ عصمت چغتائی

عصمت چغتائی عصمت سے قبل ، اُردو ادب میں پندرہ سے بیس ناول نگار خواتین موجود ہیں اور اُن کے پچاس ساٹھ ناولوں کا ذکر بھی تاریخِ ادب میں ملتا ہے مگرعصمت چغتائی اُن ناول نگاروں میں سے ہیں جنہوں نے اُردو میں پہلی بار متوسط گھرانے کی عورتوں کی جنسی گھٹن پر قلم اٹھایا ہے لیکن انہوں نے کہیں بھی اُن کے پس منظر میں سماجی عوامل کو نظر انداز نہیں کیا۔ اس لیے ان کے فن میں داخلیت، نفسیات کی پیچیدگیوں کے ساتھ گرد و پیش کے اثرات…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ رضیہ فصیح احمد

رضیہ فصیح احمد پاکستانی ناول نگار خواتین میں رضیہ فصیح احمد کا نام بھی اہمیت کا حامل ہے۔انہوں نے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔وہ مراد آباد (متحدہ ہندوستان) میں ۱۹۲۴ء میں پیدا ہوئیں۔ تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہو گئیں۔پہلا افسانہ ’’نا تمام تصویر‘‘ ۱۹۴۸ء عصمت کراچی میں شائع ہوا۔افسانوی مجموعے دو پاٹن کے بیچ، بے سمت مسافر، یہ خواب سارے، بارش کا آخری قطرہ، کالی برف کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔یوں ان کی ابتدائی شہرت ایک افسانہ نگار کی حیثیت سے ہوئی۔وہ اپنے افسانوں کی بنیادی اپنے گردو پیش…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ واجدہ تبسم

واجدہ تبسم واجدہ تبسم ۱۶؍ مارچ ۱۹۳۵ء کے روز امراؤتی میں پیدا ہوئیں۔اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’شہرِ ممنوع‘‘ ۱۹۶۱ء میں شائع ہوا۔ بعد ازاں توبہ توبہ، آیا بسنت سکھی، اُترن، نتھ کا بوجھ، محبت، دھنک کے رنگ نہیں، جیسے دریا، گلی گلی کہانیاں، پھول کھلنے دو، نتھ کا غرور، چٹنی وغیرہ اشاعت پذیر ہوئے۔اُن کا ناول ’’کیسے کاٹوں رین اندھیری‘‘ ۱۹۷۶ء میں شائع ہوا۔’’پھول کھلنے دو‘‘ ۱۹۷۷ء، ’’زن، زر اور زمین‘‘ ۱۹۹۲ء۔ علاوہ ازیں قصاص اور نتھ کی عزت کے نام سے بھی اُن کے ناول شائع ہوئے۔’’بند دروازے‘‘…

Read More

رشید امجد ۔۔۔ دشتِ تمنّا

خزانے کا خواب متوسط طبقے کے اکثر لوگوں کی طرح اسے بھی وراثت میں ملا تھا، پرانے گھر میں اس کے باپ نے بھی کئی جگہیں لکھ دی تھیں لیکن خزانہ تو نہ ملا گھر کی خستگی میں اضافہ ہوگیا۔ پھر اس نے یہ خواب دیکھنا چھوڑ دیا جو اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملا تھا۔ عمر کے آخری دنوں میں وہ مایوس ہوگیا لیکن نہیں جانتا تھا کہ یہ خواب وراثت میں اس کے بیٹے کو منتقل ہوگیا ہے۔ وراثت میں منتقل ہونے کے لئے کچھ تھا بھی…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ خدیجہ مستور

خدیجہ مستور خدیجہ مستور اور قرۃ العین حیدر دو ایسی خواتین ہیں جن سے متعلق اگر یہ کہا جائے کہ ڈاکٹر رشید جہاں اور عصمت چغتائی کے بعد اُنہوں نے ایک عہد کو متاثر کیا تو چنداں غلط نہ ہو گا۔خدیجہ نے اوّل اوّل شعر گوئی کی کوشش بھی کی مگر اُس میں انہیں کامیابی نصیب نہ ہوئی کہ اللہ کریم نے انہیں ایک مختلف کلام کے لیے منتخب کیا تھا۔ اُن کے ناول ’’آنگن‘‘ اور ’’آگ کا دریا ‘‘ میں مشترک قدر یہ ہے کہ قرۃ العین نے ہندوستان…

Read More

اکرم کنجاہی ۔۔۔ سیمیں کرن

سیمیں کرن گلبرگ،فیصل آباد میں مقیم سیمیں کرن حالیہ دور کی فکشن نگار ہیں۔ماضی قریب میں پاکستان اور پاکستان سے باہر فکشن کے منظر نامے میں انہوں نے بہت سرعت اور محنت سے اپنی جگہ بنائی ہے۔وہ کالم نگار کی حیثیت سے بھی اپنا مقام بنا رہی ہیں۔ ادبی جرائد میں تسلسل کے ساتھ شائع ہونے کی وجہ سے نہ صرف اُن کوسنجیدہ قارئین کی ایک بڑی تعداد میسر ہے بلکہ صاحبانِ نقد و نظر پر بھی انہوں نے اپنا اعتبار قائم کیا ہے۔ اُن کا ادبی تخلیقی اثاثہ معیاراور…

Read More

خمارِ عشق … رشید امجد

ایک دن گم ہو گیا تھا، کیسے؟ یہ پتہ نہیں چل رہا تھا، ہوا یوں کہ اسے ایک ڈرامہ سیریل دیکھنے کا بڑا شوق تھا، کچھ ہی ہو جائے وہ اس کی کوئی قسط نہیں چھوڑتا تھا۔ اس کی بارہویں قسط دیکھی تو اشتیاق اور بڑھا کہ کہانی نے تیرہویں قسط میں نیا رُخ اختیار کرنا تھا، لیکن جب اگلی قسط دیکھ رہا تھا تو احساس ہوا کہ کچھ آگے پیچھے ہو گیا ہے۔ بارہویں قسط کا تسلسل ٹوٹ سا رہا ہے، قسط ختم ہوئی تو معلوم ہوا کہ یہ…

Read More

ماتم بال و پَر کا … رشید امجد

بات یوں چلی کہ نام اور پہچان کا تعلق جسم سے ہے یا اس بے نام شے سے جو جسم کو وجود بناتی ہے۔ جس کے بغیر جسم بے حِس و حرکت مٹی کا ایک ڈھیر ہے، جسے یا تو کیڑے مکوڑے کھا جاتے ہیں یا خاک کے ساتھ خاک ہوجاتا ہے۔ مٹی ریتیلی ہو تو خاک ہونے میں زیادہ عرصہ نہیں لگتا، چکنی ہو تو دیر لگتی ہے۔ لیکن کیڑے تو ہر جگہ ہوتے ہیں اور انھیں بھوک بھی لگتی ہے تو پھر نام او رپہچان کا تعلق کس…

Read More

رشید امجد … ڈائری کا اگلا صفحہ

جب سے بیوی فوت ہوئی تھی وہ ایک بنجر کھیت تھا،ہریالی کے تصوّر سے بھی خالی بوند بوند پانی کو ترستا ہوا۔زندگی بس گزررہی تھی،صبح ناشتے پر بیٹے بہو اور ان کے بچوں سے مختصر سی گفتگو،پھر دفتر کی بے رنگ باتیں،فائلوں سے اٹھتی عجیب سی بو،آس پاس کے لوگ بھی اسی کی طرح تھکے ہوئے اور بے زار بے زار سے۔پرسنل سیکریٹری بھی اسی کی طرح اکتائی ہوئی۔فائل لے کر اس کے کمرے میں آتی تو لگتا کسی تالاب کی کائی اکھٹی ہوکر جسم بن گئی ہے۔آدھا گھنٹہ سامنے…

Read More