حامد یزدانی ۔۔۔۔ نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے

نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے یہ ہم نے کیسے عجیب سے گھر بنا لیے تھے وہ جس ورق سے ہمیں بنانا تھی ایک کشتی اُسی ورق پر کئی سمندر بنا لیے تھے نہ جانے کیوں آسماں بہت یاد آ رہا تھا سو کچھ ستارے ہی سونی چھت پر بنا لیے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ عشق تقلید چاہتا ہے سو ہم نے بھی سارے اشک، پتھر بنا لیے تھے تو پھر وہ صحرا کے ساتھ رہتا تھا اپنے گھر میں سبھی دریچے ہوا کے…

Read More

حامدؔ یزدانی … خود۔جزیرہ رات کاآخری مشورہ

خود۔جزیرہ رات کاآخری مشورہ …………………… بس اب بھاگنابند کرو کیارات ہے! نوکیلے تاروں میں الجھا تاج نما اک چاند ہے اوربے رنگ۔۔۔ کہ پل پل رنگ بدلتا اک ہالہ ہے! رک جاؤ اب رک جاؤ بھاگنے سے کیا فاصلے کم ہو جائیں گے؟ سچ مانو، تم تھک ٹوٹ چکے ہو بریف کیس کو تھامے ایسے بھاگتے بھاگتے، ہانپتے ہانپتے یہیں، یہیں، بس یہیں رُکو اس مین ہول کا ڈھکن کھینچو ہاتھ میں تھامے بریف کیس کو اندر پھینکو وہ بے رنگ۔۔۔ کہ پل پل رنگ بدلتا ہالہ نیم غنودہ ہے…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ چٹکتی یاد، گئی رات کی، پڑی ہوئی ہے

چٹکتی یاد، گئی رات کی، پڑی ہوئی ہے اُداس صحن میں کچھ چاندنی پڑی ہوئی ہے جو چاہیے جسے لے جائے راستے کے لیے یہاں اندھیرا، وہاں روشنی پڑی ہوئی ہے ٹھہر تو جاؤں سرِ مرگ دوگھڑی میں بھی مگر جو پیچھے مِرے زندگی پڑی ہوئی ہے! نہ مسکراؤ، چلو دھوپ کی دعا دے دو بہت دنوں سے اِدھر رات سی پڑی ہوئی ہے ابھی ابھی کوئی شاید اُٹھا ہے پڑھتے ہوئے کتابِ رفتہ کہ حامدؔ کُھلی پڑی ہوئی ہے

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ سفر کی شاخ پر ( جنابِ اختر حسین جعفری کے لیے)

سفر کی شاخ پر ( جنابِ اختر حسین جعفری کے لیے) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سفر کی شاخ پر کِھلی تھیں ملگجی بشارتیں کُشادِ حرفِ ذات سے،سوادِ زخمِ خواب تک سفید جھاڑیوں میں تھیں شفق کی خشک بیریاں کہ جگنوؤں نے روشنی کا پیرہن اتار کر قدیم آسماں کے دائروں میں دفن کر دیا نواحِ جاں میں سرمئی سی بادلوں کی ڈھیریاں فرازِ برف زار سے،نشیب ِ ماہتاب تک غروبِ شامِ رفتگاں کی جل بجھی وصیّتیں ہجومِ رنگ میں گھرے، اُڑے اُڑے جواب تک پسِ غبارِ آئنہ کوئی سوال رہ گیا کہِیں بس…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ ایک چہرا بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں

ایک چہرا بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں کوئی ایسا بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں خالقِ وقت! شب و روز کے اس جنگل میں ایک لمحہ بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں دوپہر آئی ہمیں اجنبی چوراہے پر اپنا سایا بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں آسماں آسماں پھیلے ہوئے اس دامن میں اک ستارا بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں منزلوں منزلوں بیگانہ روی ہے ، حامد ایک رستا بھی نہیں ہے جسے اپنا کہہ لیں

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ سلام بحضور امامِ عالی مقام ؓ

سلام بحضور امامِ عالی مقام ؓ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرِ دوام یہ تحریر ہے، نہیں ہے کیا؟ غمِ حُسین ابد گِیر ہے، نہیں ہے کیا؟ کہ زخم زخم اِ سی روشنی سے چمکے گا کہ بُوند بُوند میں تنویر ہے، نہیں ہے کیا؟ ترازُو پیاس میں اِک تِیر تھا، نہیں تھا کیا؟ ترازُو پیاس میں اِک تِیر ہے، نہیں ہے کیا؟ جہاں جہاں بھی رِدا ہے عَلم بناتی ہوئی وہاں وہاں مِرا شبیر ہے، نہیں ہے کیا؟ خراجِ اشک ادا خامشی سے کرتے ہیں کہ آہِ ضبط بھی تشہیر ہے، نہیں ہے…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ دِن آغاز ہُوا

دِن آغاز ہُوا ——- دن آغاز ہُوا اک آوارہ دن آغاز ہُوا اک آوارہ   پت جھڑ جیسا دن آغاز ہُوا لان میں دبکے، میپل کے بوسیدہ پتے اپنی مٹھی کھولتے ہیں جانے، کون زبان میں یہ کیا بولتے ہیں! میں تو اتنا جانتا ہوں عمر کی ڈھلتی دھوپ میں یادوں کی مٹّی بھی سونا لگتی ہے کوئی بتائے کون یہ سونا آنکھ میں بھر کر پہروں آوارہ پھرتا ہے سرمائی کہرے میں چُھپتی جھیلوں پر بیتے کل کے اونچے نیچے ٹِیلوں پر بس اک دن کو ساتھ لئے سانس میں…

Read More

حامد یزدانی ۔۔۔ نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے

نہ چھت نہ دیوار تھی فقط در بنا لیے تھے یہ ہم نے کیسے عجیب سے گھر بنا لیے تھے نہ جانے کیوں آسماں بہت یاد آرہا تھا سو کچھ ستارے سے سُونی چھت پربنا لیے تھے وہ جس ورق سے ہمیں بنانا تھی ایک کشتی اُس اک ورق پر کئی سمندر بنا لیے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ عشق تقلید چاہتا ہے سو ہم نے بھی سارے اشک، پتھر بنا لیے تھے اب ایک صحرابھی ساتھ رہتا ہے اس کے گھر میں سبھی دریچے ہَوا کے رُخ پر…

Read More