توقیر عباس ۔۔۔ ﺳﺒﮭﯽ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ، ﺷﮧ ِ ﺍﻣﻢ ﺗﺮﺍﻏﻢ

ﺳﺒﮭﯽ ﻏﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮍﺍ ﻏﻢ ، ﺷﮧ ِ ﺍﻣﻢ ﺗﺮﺍﻏﻢ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮦ ﻭ ﺟﺎﻭﯾﺪ ﻭ ﻣﺤﺘﺸﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﯾﮩﯽ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺍﺛﺎﺛﮧ ﮨﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺮﮮ ﺟﻠﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﯿﻤﮯ ﺗﺮﺍ ﻋﻠﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﺳﺒﮭﯽ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﺳﮯ ﺟﻮﮌﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺟﮩﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺼﺪﺭِ ﺍﻧﻮﺍﺭ ﺍﯾﮏ ﻏﻢ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺟﮭﯿﻞ ﺑﭽﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺧﺸﮏ ﮨﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺩﯾﺪﮦٔ ﻧﻢ ﭘﺮ ﺗﺮﺍ ﮐﺮﻡ ﺗﺮﺍ ﻏﻢ ﺍﻣﮉ ﭘﮍﯼ ﻣﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﮧ ﺍﯾﮏ ﺻﺒﺢِﺑﮩﺸﺖ ﮐﮧ ﺩﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﻣﺮﮮ ﺭﺥ ﺳﮯ ﻏﺒﺎﺭِ ﻏﻢ ترا ﻏﻢ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻟﮩﺮ ﭘﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻏﻢ ﮐﮯ ﻋﻨﻮﺍﮞ…

Read More

توقیر عباس ۔۔۔ یہ فخر ہے اے مجرئی جاگیر ہماری  

یہ فخر ہے اے مجرئی جاگیر ہماری سادات کے غم سے ہوئی تعمیر ہماری توقیر سدا کرتا ہے تطہیر ہماری تہذیب میں شامل غمِ شبیر ہماری اک زخم نکھرتاہوا زنجیر زنی سے اک درد ہلاتا ہوا زنجیر ہماری کہتی تھی دمِ نزع سکینہ سے ضعیفی کچھ دیر کو ہے سامنے تصویر ہماری اک زہر میں ڈوبی ہوئی لوگوں کی خموشی اک نوحے سے ہوتی ہوئی تطہیر ہماری اک نعرۂ پر جوش ہوا ڈھال ہمیشہ اک نوحۂ غم ہو گیا شمشیر ہماری یہ کس کی سرِ دشت ہیں پر درد صدائیں…

Read More

توقیر عباس ۔۔۔ عمر چھ ماہ نام اصغر ہے  

عمر چھ ماہ نام اصغر ہے عالمِ کم سنی میں حیدر ہے اک تبسم نکھارتا ہے اسے جس جوانی کا نام اکبر ہے حسنِ اکبر پہ ماہتاب نثار اور اکبر نثارِ اصغر ہے پیاس کو تیر مارنے والے ایک بچہ جوان لشکر ہے وار ایسا کیا تبسم کا کند بیعت کا اب بھی خنجر ہے حسن میں ہے وہ اکبر و قاسم اور شجاعت میں رشکِ حیدر ہے وہ بہتر میں اک اکیلا تھا وہ اکیلا بھی اک بہتر ہے کربلا میں تبسمِ اصغر دشت میں موج زن سمندر ہے…

Read More

توقیر عباس ۔۔۔ اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے  

اک بارگہِ حسن میں پیغامِ سناں ہے گل رنگ ابھی سینۂ شبانِ جناں ہے اک لشکرِ عصیاں میں گھرا شاہِ جہاں ہے اک نار مولد جو سدا در پئے جاں ہے اک شخص جو مجموعہِ اوصافِ نبی ہے اک پھول ہے جس پھول میں گلزار نہاں ہے آئے ہیں عجب شان سے میدانِ وغا میں مولا ہیں کہ گلزار میں اک سروِ رواں ہے معصوم سی اک پیاس کا ہنسنا سر میداں کیا تیر ہے جس تیر پہ قرباں کماں ہے دشمن کی قطاروں میں ہیں عباس غضب ناک شمشیر…

Read More

توقیر عباس ۔۔۔ اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور

اس غم کے لیے چاہیے گھر اور مکاں اور یہ تیر ہے وہ جس کی ضرورت ہے کماں اور آیا ہے صفِ سیدِ ابرار میں جب سے اب حر کی ادا اور ہے اندازِ بیاں اور عاشورۂ غم ذہنوں پہ طاری ہے ابھی سے مقصودِ بیاں اور ہے ہوتا ہے عیاں اور معصوم تبسم کہ جواں سینۂ شبٌاں مطلوب ہے اس کے لیے اندازِ بیاں اور اس دہر میں جس شخص نے کی بیعتِ باطل اس سود کے سودے میں سراسر ہے زیاں اور ہر ایک رجز سے سرِ میداں…

Read More

توقیر عباس ۔۔۔ نجانے آگ کیسی آئینوں میں سو رہی تھی

نجانے آگ کیسی آئینوں میں سو رہی تھی دھواں بھی اٹھ رہا تھا روشنی بھی ہو رہی تھی لہو میری نسوں میں بھی کبھی کا جم چکا تھا بدن پر برف کو اوڑھے ندی بھی سو رہی تھی چمکتے برتنوں میں خون گارا ہو رہا تھا مری آنکھوں میں بیٹھی کوئ خواھش رو رہی تھی ہماری دوستی میں بھی دراڑیں پڑ رہی تھیں اجالے میں نمایاں تیرگی بھی ہو رہی تھی دباؤ پانیوں کا ایک جانب بڑھ رہا تھا نجانے ساحلوں پر کون کپڑے دھو رہی تھی کسی کے لمس…

Read More

توقیر عباس… نظم

عکس اور تحریریں ذہنوں میں جگہ بناتے ہیں وبا کے بعد ان کا بھرپور تجربہ ہوا چھینکتے پہلے بھی تھے کوئی ہم کو یاد کرتا ہے ، یہ تصور ابھرتا تھا مگر اب چھینک کی آواز خطرے کے الارم کی طرح لگتی ہے کھانستے پہلے بھی گلے کی خراش یا گھی کی پھانس سمجھتے تھے چائے پیتے گڑ کھاتے اور مزے اڑاتے تھے مگر اب کھانسی کی آواز ایمبولینس کے بلاوے کا نمبر ڈائل کرتی محسوس ہوتی ہے بخار پہلے بھی ہوا کرتا تھا رضائی اور لحاف میں قرنطینہ کرتے…

Read More

نعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ توقیر عباس

میں بچوں کو کہانی جب سناتا ہوں مجسم صدق کی باتیں بتاتا ہوں اگر پوچھے کوئی ان کی حلیمی کا میں پیڑوں پر اسے پنچھی دکھاتا ہوں بتاتا ہوں کہ صادق تھے امیں بھی تھے میں سب کے سامنے کردار لاتا ہوں کوئی پوچھے کہ ان کی گفتگو کیا تھی میں گھر کے قمقمے سارے جلاتا ہوں حدیثِ علم کی تشریح جب پوچھیں انھیں پیڑوں پہ لگتے پھل دکھاتا ہوں سدا تشبیہِ رخسارِ مبارک میں سبھی کو مصحفِ قرآں دکھاتا ہوں مجھے جب ان کے لہجے کا بتانا ہو ملا…

Read More