نظیر اکبر آبادی کا نام شیخ ولی محمد تھا۔ نظیر تخلص رکھ کر شاعری کی۔ نظیر 1735 میں دلی میں پیدا ہوئے۔ بعض محققین کے نزدیک نظیر 1732-1740 کے عرصہ کے دوران پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر رام بابو سکسینہ کے مطابق نادر شاہ کے دہلی حملہ کے وقت پیدا ہوئے تھے۔ آپ کا مزار دہلی میں ہے۔ آپ کے والد کا نام محمد فاروق تھاجو اپنے والدکی بارہ اولادوں میں سے صرف ایک ہی بچے تھے۔ ابھی چھوٹے ہی تھے کہ والدہ کے ساتھ آگرہ منتقل ہو گئے اور محلّہ تاج…
Read MoreTag: Nazeer Akbar abadi
نظیر اکبر آبادی
لُٹے ہم اس کی گلی میں تو یوں پکارے لوگ کہ اک فقیر کو اک بادشہ نے لوٹ لیا
Read Moreنظیر اکبر آبادی ۔۔۔۔ ہو کیوں نہ تِرے کام میں حیران تماشا
ہو کیوں نہ تِرے کام میں حیران تماشا یا رب ! تِری قُدرت میں ہےہر آن تماشا لے عرش سےتا فرش نئے رنگ، نئے ڈھنگ ہر شکل عجائب ہے، ہر اِک شان تماشا افلاک پہ تاروں کے جھمکتے ہیں طلسسمات اور رُوئے زمیں پر گل و ریحان تماشا جِنّات، پَری، دیو، ملک، حوُر بھی نادر اِنسان عجوبہ ہیں تو حیوان تماشا (ق) جب حسن کے جاتی ہے مرقع پہ نظر، آہ! کیا کیا نظر آتا ہے ہر اِک آن تماشا چوٹی کی گندھاوٹ کہیں دِکھلاتی ہےلہریں رکھتی ہے کہیں زُلفِ…
Read Moreآدمی نامہ ۔۔۔۔۔ نظیر اکبر آبادی
آدمی نامہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ دنیا میں بادشا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی اور مفلس و گدا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی زردار، بے نوا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی نعمت جو کھا رہا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی ٹکڑے جو مانگتا ہے، سو ہے وہ بھی آدمی ابدال و قُطب و غوث و وَلی، آدمی ہوئے مُنکِر بھی آدمی ہوئے اور کُفر کے بھرے کیا کیا کرشمے، کشف و کرامات کے کیے حتیٰ کے اپنے زہد و ریاضت کے زور سے خالق سے جا ملا ہے ،…
Read More