ناصر علی سید ۔۔۔ یہ حرف و لفظ کی کشتی، یہ آب کاغذ پر

یہ حرف و لفظ کی کشتی، یہ آب کاغذ پر بناتا رہتا ہوں اب تو سراب کاغذ پر مہک اُٹھی تری خوشبو سے رات تنہائی جو تیرے نام کا لکھا گلاب، کاغذ پر عجیب طرح کی تعبیر دوست کھینچتے ہیں کبھی جو بُنتا ہوں دو چار خواب کاغذ پر دکاں لگاتا ہوں زخموں کی جب بھی رات گئے اُترنے لگتے ہیں پھر ماہتاب کاغذ پر ترے جمال کی تصویر بن نہیں پاتی لکھے پڑے ہیں کئی انتساب کاغذ پر اُدھار تیری کہانی کا بھی چُکا لوں گا میں نقدِ جاں…

Read More

محبت بے کراں ہے (ناصر علی سید ۔۔۔ فن اور شخصیت) ۔۔۔۔ حسام حر ، جواد

محبت بے کراں ہے (ناصر علی سید ۔۔۔ فن اور شخصیت) DOWNLOAD

Read More

ناصر علی سیّد ۔۔۔ لکھی نصیب میں تھی در بہ در کی بے چینی

لکھی نصیب میں تھی در بہ در کی بے چینی سو زندگی نہیں ، میں نے بسر کی بے چینی میں آنسوؤں کو تبسّم میں ڈھال لیتا ہوں کھلے گی کس پہ مری چشم ِ تر کی بے چینی اگرچہ ایک ہی کمرہ ہے میرے حصّے میں مجھے ملی ہے مگر سارے گھر کی بے چینی پلٹ کے آ یا تو بچوں نے اجنبی جا نا جمی تھی چہرے پہ ایسی سفر کی بے چینی یہ کل کی بات ہے جب صبح آئنہ دیکھا تو شام تک چلی آ ئی…

Read More

ناصر علی سید ۔۔۔ دنیا وا لے تو فقط نام و نسب جانتے ہیں

دنیا وا لے تو فقط نام و نسب جانتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت سی دل دکھانے والی ساعتوں سے بوجھل بوجھل دوہزاربیس2020 کے کٹھور سال کا کیلنڈر آج شام کے بعد دیواروں سے ہٹ جائے گا۔ ہر چند اب کیلنڈر کی روایت بھی ہمارے ہاتھ لگی ہوئی ایک چھوٹی سی ڈیوائس (جوموبائیل یا سیل فون کہلاتی ہے)نے کم و بیش ختم کردی ہے، جب چاہے کسی بھی سال کی کوئی تاریخ دیکھ لیں جب چاہیں آنے والی کوئی بھی اہم تاریخ محفوظ کر لیں اور یہ ڈیوائس آپ کو یاد دلا…

Read More