یہ حرف و لفظ کی کشتی، یہ آب کاغذ پر بناتا رہتا ہوں اب تو سراب کاغذ پر مہک اُٹھی تری خوشبو سے رات تنہائی جو تیرے نام کا لکھا گلاب، کاغذ پر عجیب طرح کی تعبیر دوست کھینچتے ہیں کبھی جو بُنتا ہوں دو چار خواب کاغذ پر دکاں لگاتا ہوں زخموں کی جب بھی رات گئے اُترنے لگتے ہیں پھر ماہتاب کاغذ پر ترے جمال کی تصویر بن نہیں پاتی لکھے پڑے ہیں کئی انتساب کاغذ پر اُدھار تیری کہانی کا بھی چُکا لوں گا میں نقدِ جاں…
Read MoreTag: پروفیسر ناصر علی سید
فراز صاحب(خاکہ) ۔۔۔ اسحاق وردگ
فراز صاحب (خاکہ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم وہ خوش نصیب نسل ہیں جسے احمد فراز صاحب سے ملنے،شعر سننے،مکالمہ کرنے،ہاتھ ملانے اور آٹوگراف لینے کے بے شمار مواقع انعام ہوئے۔۔۔! یہ دیارِ ادب میں خوش نصیبی کی اعلا مثال ہے کہ فراز صاحب پشاور میں پلے بڑھے،ادبی اٹھان کی خوش بختی ملی۔۔۔ مجھے بھی اس شہرِ ہفت زبان میں جنم لینے، ابتدائی تعلیم حاصل کرنے اور ان گلیوں میں سانس لینے کے موسم ملے ۔۔۔ آج بھی پشاور کے قہوہ خانوں، ادبی حجروں اور شہر کی قدیم گلیوں میں فراز صاحب کے…
Read More