مسرت افزا روحی مسرت افزا روحی درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔شاعرہ، ادیبہ، صحافی،مدیرہ اور افسانہ نگار ہیں۔ اُن کا شعری مجموعہ ’’حرزِ جاں‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ صحافت کو بھی اپنایا اور ’’زاویۂ نگاہ‘‘ کی مدیرہ رہی ہیں۔اُن کا افسانوی مجموعہ ’’آوازیں‘‘ ۲۰۰۴ء میں منظر عام پر آیا تھا۔اُن کا مطالعہ خوب ہے۔محسوس ہوتا ہے کہ کئی افسانے لکھنے کے لیے انہوں نے خاصی تحقیق بھی کی ہے۔قوتِ مشاہدہ تیز ہے۔وہ بھی اُن چند فکشن نگاروں میں سے ہیں جن کے افسانوں کا اختتامیہ…
Read MoreTag: صحافی
اکرم کنجاہی ۔۔۔ نسیم انجم
نسیم انجم نسیم انجم کراچی میں مقیم ہیں۔یہیں۱۹۵۶ء میںپیدا ہوئیں۔ ممتاز فکشن نگار، صحافی،کالم نگار اور تجزیہ کار ہیں۔ درس و تدریس سے بھی وابستہ رہی ہیں۔گزشتہ ۲۰؍ برسوں سے روز نامہ ایکسپریس کے لیے کالم لکھ رہی ہیں۔ماہنامہ ’’چاند گاڑی‘‘ کی مدیرہ اور’’اسپورٹس انٹرنیشنل‘‘ کی نائب مدیرہ رہی ہیں۔ریڈیو پاکستان کے لیے ڈرامے بھی لکھے۔اُن کے افسانوی مجموعے دھوپ چھاؤں، گلاب فن اور دوسرے افسانے، اور آج کا انسان کے نام سے شائع ہوئے۔ناول کائنات، آہٹ، پتوار، نرک اور سر بازار رقصاں کے نام سے شائع ہوئے۔ آپ کا…
Read Moreاکرم کنجاہی ۔۔۔ شاہدہ لطیف
شاہدہ لطیف شاہدہ لطیف کا تخلیقی کینوس بہت وسیع ہے۔ وہ شاعرہ، ادیبہ،فکشن نگار، صحافی، سفر نامہ نگار اورمورخ ہیں۔وہ تاریخِ ادب کی اُن چند فکشن نگار خواتین مثلاً عصمت چغتائی، جمیلہ ہاشمی اور رضیہ فصیح احمد میں سے ایک ہیں جنہوں نے تاریخی ناول لکھے ہیں۔مذکورہ خواتین کی فکشن نگار کی حیثیت سے گراں قدر خدمات ہیں اور اُن میں سے ہر کسی کا اپنا اسلوب بیان ہے۔اِن خواتین کی تاریخی تخلیقات کے مطالعے کے بعد جب گزشتہ دنوں مجھے شاہدہ لطیف کے تاریخی ناول ’’سلطان محمد فاتح‘‘ کا…
Read Moreضیا شاہد انتقال فرما گئے
سینئر صحافی اور خبریں اخبار کے چیف ایڈیٹر ضیا شاہد علالت کے باعث لاہور میں انتقال کرگئے۔ وہ پندرہ دن سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ وہ گردوں کے مرض میں مبتلا تھے.
Read Moreتیس منٹ ۔۔۔ حامد یزدانی
تیس منٹ ۔۔۔۔۔۔ ’’لو بھئی، سن انیس سو پچاسی کے تین سو پینسٹھ دنوں میں سے آخرِ کارایک اور دن اپنی تمام تر بیزار کن مصروفیات کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ جنگ کے دفتر تابشؔ سے ملاقات ہی تو آج کی آخری باقاعدہ مصروفیت تھی۔ سو، وہ بھی رات گیارہ بج کر بیس منٹ پر تمام ہوئی۔۔۔اور اب خیر سے گھر واپسی کا سفر۔۔۔لیکن آپ جناب یہاں کیسے۔۔۔؟‘‘ ’’مجھ سے ملنے؟ اور اِس وقت۔۔۔؟‘‘ ’’ارے نہیں، مجھے بُرا ہرگز نہیں لگا۔۔۔بس ذرا حیرانی ہوئی۔ دیکھیے، سامنے شملہ پہاڑی…
Read More