سلطان سکون :میرے عہد کا خدائے سخن ۔۔۔ ڈاکٹر عادل سعید قریشی

 سلطان سکون :میرے عہد کا خدائے سخن ابنِ رشیق نے اپنی کتاب ’العمدۃ فی صناعۃ الشعرونقد‘ میں جس شاعری کے خدوخال واضح کیے ہیں وہ آج بھی اپنے فکری اور فنی تازگی کے سبب من و عن تسلیم کیے جا رہے ہیں۔ان افکار کی روشنی ہی میں متاخرین وناقدین اور شعرا نے اپنے اپنے مسالک ترتیب دیے ہیں۔ان افکار کا عکس اگر آج کسی شاعر کے ہاں دیکھنا مقصود ہو تو سلطان سکون کی کتاب’’کوئی ہے‘‘آپ کی منتظر ہے۔جہاں سلطان سکون کی شاعری اپنے حسن و تاثیرکی داد خواہ ہے۔۔…

Read More

سلطان سکون ۔۔۔ ٹھنڈی ہے یا گرم ہوا ہے

ٹھنڈی ہے یا گرم ہوا ہے اس کو کیا اس کی پروا ہے کتنی گہری خاموشی ہے کتنا گہرا سناٹا ہے ہے درپیش مسافت کیسی ایک زمانہ ہانپ رہا ہے جنگل تو طے کر آئے ہیں آگے اک صحرا پڑتا ہے اگلے پل کیا جانے کیا ہو اب تو یہی دھڑکا رہتا ہے کوئی نہیں ہے ساتھ تمہارے اپنے ہی قدموں کی صدا ہے کون ہے وہ خوش قسمت دیکھیں جس کو صبر کا اجر ملا ہے یار سکون شکایت کیسی تیرا اپنا کیا دھرا ہے

Read More