محمد یعقوب آسی​ ۔۔۔ برگِ آوارہ کی تمثیل

برگِ آوارہ کی تمثیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (۱) کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لیے بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے نہ جانے کون سا لمحہ تھا جب میں نے خود کو امتحان میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ علی مطہر اشعر کی شاعری پر بات کرنا برگِ آوارہ کی تمثیل سے بھی زیادہ مشکل ہے ۔ بہاروں کے سودائی تو بہت ہیں کہ برگ و گل سب کو اچھے لگتے ہیں ۔ خزاں سے پیار کرنے کا سلیقہ کم کم لوگوں کو آتا ہے ۔ اشعر صاحب کا…

Read More

سید علی مطہر اشعر ۔۔۔ کس طرح نزدیک تر ہوں فاصلے کیسے گھٹائیں

کس طرح نزدیک تر ہوں فاصلے کیسے گھٹائیں پھول سے چہرے ہیں لیکن پتھروں جیسی انائیں خوف کی بنیاد پر اُٹھے ہیں بچوں کے بدن بوئے خوں لاتی رہی ہیں گھر میں مقتل کی ہوائیں آپ کی خوشیوں کے گہوارے خدا قائم رکھے آیئے ہم آپ کو اپنا عزا خانہ دکھائیں رابطہ رہتا ہے ساری رات دیواروں کے ساتھ گفتگو کرتی ہے مجھ سے گھر کی سائیں سائیں پیرہن تیرا ہی جیسا ہم بھی لے آئیں، مگر اپنے چہرے سے نقوشِ مفلسی کیسے مٹائیں ہم بھی ان سے گفتگو کر…

Read More

اُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو ۔۔۔ سید علی مطہر اشعر

اُس کی شناخت اُس کے خیالات سے بھی ہو وہ آشکار اپنی کسی بات سے بھی ہو ہم اتفاق کیسے کریں اُس کی رائے سے جب منحرف وہ اپنے بیانات سے بھی ہو ممکن ہے پیش رفتِ قیامِ سکوں کے بعد اُس کا کوئی مفاد فسادات سے بھی ہو پابندیِ وفا مری میراث ہی سہی کوئی اُمید اُس کی مگر ذات سے بھی ہو اُس شخص کو مزید پرکھنے کے واسطے کچھ دن گریز خوئے مدارات سے بھی ہو چہرے بھی پڑھتے رہیے کتابوں کے ساتھ ساتھ کچھ استفادہ صورتِ…

Read More