سپنے تو کجا دیکھیے کیا سو بھی سکیں گے؟ مانوس جدائی سے تری ہو بھی سکیں گے؟ کم مائیگیٔ حرفِ تشکر مجھے بتلا یہ قرض محبت کے ادا ہو بھی سکیں گے؟ جڑ سے تو اکھاڑیں گے چلو بوڑھے شجر کو ننھا سا نہال اس کی جگہ بو بھی سکیں گے؟ ڈر تھا کہ وہ بچھڑا تو تبسم سے گئے ہم کیا جانیے اس ہجر میں اب رو بھی سکیں گے؟ اک بار کا اظہار وہ صد خونِِ انا تھا اس داغِ تمنا کو کبھی دھو بھی سکیں گے؟
Read MoreTag: محمد یعقوب آسی
محمد یعقوب آسی ۔۔۔ برگِ آوارہ کی تمثیل
برگِ آوارہ کی تمثیل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (۱) کوئی ابہام نہ رہ جائے سماعت کے لیے بات کی جائے تو تصویر بنا دی جائے نہ جانے کون سا لمحہ تھا جب میں نے خود کو امتحان میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ علی مطہر اشعر کی شاعری پر بات کرنا برگِ آوارہ کی تمثیل سے بھی زیادہ مشکل ہے ۔ بہاروں کے سودائی تو بہت ہیں کہ برگ و گل سب کو اچھے لگتے ہیں ۔ خزاں سے پیار کرنے کا سلیقہ کم کم لوگوں کو آتا ہے ۔ اشعر صاحب کا…
Read More